بھارت عالمی سطح پر دہشتگردی پھیلا رہا ہے ، دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد نہایت واضح ہیں۔ بھارت دنیا بھر میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں کروا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کا دہشتگردی کے معاملے پر مؤقف بالکل واضح ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، اور بھارتی پراکسیز مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں براہ راست شامل ہیں۔ پاکستان ان حقائق کو ہر عالمی فورم پر اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ان پناہ گاہوں کے معاملے پر افغان حکام سے رابطے میں ہیں، اور امید ہے کہ افغان حکومت مل کر اس خطرے کا تدارک کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ ماضی کے فیصلے اس وقت کے رہنماؤں نے کیے، اور اس بارے میں وہی بہتر وضاحت کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔
کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں طویل عرصے سے جاری ہیں۔ بدقسمتی سے کشمیریوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئی۔ حالیہ واقعے میں ایک کشمیری نوجوان کی تضحیک پر پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔
بلاول بھٹو کے ایک حالیہ بیان پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس کی وضاحت پیپلز پارٹی کا ترجمان ہی دے سکتا ہے۔ البتہ بلاول بھٹو نے کسی سیاسی رہنما کو بھارت کے حوالے کرنے کی بات نہیں کی۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی کا بیان حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور بھارتی جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ایس سی او سائیڈ لائنز پر کسی بھارتی رہنما سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم دیگر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں طے کی جا رہی ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ 25 کروڑ انسانوں کی زندگی سے جڑا ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت نے پاکستان کا پانی روکا یہ جنگ کے مترادف ہوگا : اسحاق ڈار
شفقت علی خان نے کہا کہ چین پاکستان کا قریبی اور قابل اعتماد دوست ہے، اور تائیوان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برکس (BRICS) تنظیم میں شامل ہونے کا خواہش مند ہے، لیکن چونکہ ہم اس وقت رکن نہیں، اس لیے کسی قیاس آرائی پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ پاکستان کی آلودگی میں عالمی حصہ بہت کم ہے۔
اسٹیل ملز پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ سوویت یونین کا پاکستان کے لیے ایک تحفہ تھا، اور حکومت اس کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر بھی سینئر حکام سے رابطے جاری ہیں۔
