پاک بھارت جنگ رکوانے کے لیے مودی کے ترلے بے نقاب ہو گئے

بھارتی اخبار دی ہندو نے حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران مودی سرکار کی جانب سے امریکی حکام کے ترلوں کی پوری کہانی بے نقاب کر دی۔ دی ہندو کے مطابق پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے دوران بھارتی حکومت نے اپنی امریکی لابنگ فرم کے ذریعے نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ سے جنگ رکوانے کے لیے منتیں اور ترلے کیے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے بھی بھرپور سرتوڑ کوششیں کیں۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ نے مداخلت کر کے جنگ بندی تو کروا دی۔ تاہم میدانِ جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں واضح ناکامی کے بعد، قریبی اتحادی ہونے کے باوجود مودی سرکار ٹرمپ انتظامیہ کی گڈ بک سے باہر نکل گئی۔

خیال رہے کہ مئی 2025 میں مختصر پاک بھارت جنگ کے بعد انڈیں حکومت مسلسل اصرار کرتی رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی چار روزہ کشیدگی کے خاتمے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں تھا۔ تاہم اب مودی سرکار کے جھوٹ کا بھانڈا بھارت کے ہی ایک معتبر اخبار دی ہندو نے پھوڑ دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق دی ہندو کی جانب سے سامنے آنے والے ثبوتوں نے مودی سرکار کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ مبصرین کے بقول امریکی محکمۂ انصاف میں جمع کرائی گئی سرکاری دستاویزات نہ صرف بھارتی حکام کی واشنگٹن میں ہونے والی پسِ پردہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ اگر پاک بھارت جنگ کے دوران امریکا غیر جانبدار تھا تو پھر بھارتی حکومت کو امریکی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے لیے مہنگی لابنگ، خفیہ رابطوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی کیا ضرورت تھی؟

پاکستانی جے ایف تھنڈر-17 جہاز کی مانگ میں حیران کن اضافہ

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی معاون جیسن ملر کی سربراہی میں کام کرنے والی امریکی لابنگ فرم SHW LLC نے 10 مئی 2025 کے بعد امریکی حکام سے مسلسل رابطے کیے۔ جس میں امریکی حکام سے جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کی بار بار درخواست  کی گئی۔ تاہم ابتدا میں ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مداخلت سے انکاری رہی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف میں فارن ایجنٹ رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کے تحت جمع کرائی گئی دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے امریکی حکام سے 10 مئی کو ہونے والے رابطے جنگ بندی سے قبل تھے یا بعد میں، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی یہ سرگرمیاں اسی روز ہونے والی اہم اور قریبی سفارتی کوششوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی سفارت خانے نے صدر ٹرمپ کی قریبی لابنگ فرم کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف، امریکی تجارتی نمائندے اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے عہدیدار ریکی گل سے بھی رابطے کیے، جن میں تنازع سے متعلق میڈیا کوریج اور دیگر حساس امور زیرِ بحث آئے۔مبصرین کے مطابق بھارتی اخبار دی ہندو میں سامنے آنے والے تمام انکشافات بھارت کے اس سرکاری مؤقف سے واضح طور پر متصادم دکھائی دیتے ہیں جس میں مسلسل صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی جاتی ہے کہ انہوں نے تجارت روکنے کی دھمکی دے کر جنگ بندی میں کردار ادا کیا۔ بھارتی اخبار دی ہندو کے انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے میدان میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے واشنگٹن میں پسِ پردہ سفارتی دوڑ دھوپ، منت سماجت اور لابنگ کے ذریعے جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔

خیال رہے امریکہ میں قائم بھارتی سفارتخانے کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے لابنگ فرم 24 اپریل 2025 کو ہائر کی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت لابنگ فرم کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر جبکہ سالانہ 18 لاکھ ڈالر ادائیگی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اب تک امریکی لابنگ فرم کو 9 لاکھ ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں۔

انڈیں سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی لابنگ فرم کو براہِ راست امریکی حکام سے ملاقاتیں طے کرنے اور سرکاری کالز شیڈول کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہو کیونکہ اس سے قبل عموماً ایسے رابطے خود سفارتی مشن انجام دیتا رہا ہے، اس لیے یہ طرزِ عمل غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم واشنگٹن میں قائم بھارتی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق سفارتخانے کی جانب سے لابنگ فرم ہائر کرنے کا عمل کوئی پہلی بار انجام نہیں دیا گیا بلکہ بھارتی سفارت خانہ 1950 کی دہائی سے امریکی قوانین کے تحت لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرتا آ رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عموماً لابنگ فرمز کا کردار مشاورت اور سیاسی ماحول کو سمجھنے تک محدود ہوتا ہے، تاہم مودی سرکار نے پاکستان کے تابڑ توڑ حملوں کے خوف سے براہِ راست سرکاری رابطوں کی ذمہ داری بھی لابنگ فرم کو سونپ دی تھی تاکہ جلد از جلد پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی دھلائی سے جان چھڑائی جا سکے۔

مبصرین کے مطابق امریکی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی تو ہو گئی، مگر میدانِ جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں ناکامی اور بعد ازاں واشنگٹن میں اعتماد کھو دینے کے باعث مودی حکومت نہ صرف داخلی سطح پر سوالات کی زد میں آ گئی بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی گڈ بکس سے بھی باہر ہوتی دکھائی دی۔ تاہم مودی سرکار پاک بھارت جنگ روکنے میں امریکی کردار سے مسلسل انکاری رہی لیکن اب بھارت کے اپنے معتبر اخبار دی ہندو کی رپورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کا ’’کوئی امریکی کردار نہیں‘‘ والا بیانیہ محض ایک سیاسی دعویٰ تھا، جبکہ حقیقت میں مودی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کی منتیں، ترلے اور مہنگی لابنگ کے ذریعے پاکستان سے جنگ بندی کروانے کی کوشش کی۔ جو بالآخر ایک کمزور اور دفاعی سفارت کاری کی علامت بن کر سامنے آئی۔

Back to top button