بھارت نے علی امین گنڈا پور کے بیان کو فیٹف میں پاکستان کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کر دیا

بھارت نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے حالیہ بیان کو پاکستان کے خلاف ایک بڑا سفارتی قدم بناتے ہوئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) میں بطور ثبوت جمع کرا دیا ہے۔
فیٹف حکام کے مطابق نئی دہلی نے اس بیان کو پاکستان کے خلاف اپنے مؤقف کو تقویت دینے کے لیے باضابطہ دستاویزات کے ساتھ پیش کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اب بھی دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔
بھارتی رپورٹ میں علی امین گنڈا پور کے اُس متنازع بیان کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا "ہم طالبان کو گرفتار کرتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے ادارے انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ ہمارے لوگ ہیں۔”
یہ بیان نہ صرف اندرونِ ملک سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید تنقید کا باعث بنا، بلکہ اب بھارت کی جانب سے اسے فیٹف میں پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی بنیاد بھی بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ ایک صوبائی وزیراعلیٰ کا ایسا اعتراف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے ادارے دہشت گرد عناصر کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ نئی دہلی نے اسے فیٹف میں پاکستان کے خلاف ایک باقاعدہ چارج شیٹ کے طور پر جمع کرایا ہے۔
دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، ریاست جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے: وزیراعظم شہباز شریف
فیٹف حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ معاملہ اب ان کی سطح پر غور کے لیے زیرِ غور ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو اکتوبر 2022 میں فیٹف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا، اور پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت سے پاک قرار دیا گیا تھا، جس سے ملکی عالمی مالیاتی ساکھ میں بہتری آئی تھی۔
فیٹف کی گرے لسٹ میں کسی ملک کو اُس وقت تک شامل رکھا جاتا ہے جب تک وہ اپنے مالیاتی نظام میں موجود کمزوریاں دور نہ کر لے اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کر لے۔
