بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، پانی کے اعداد و شمار فراہم کرنا بند

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تازہ صورتحال کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا تقریباً بند کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب بھارت صرف یہ اطلاع دیتا ہے کہ دریاؤں میں سیلابی ریلا اونچے درجے کا ہے یا نچلے درجے کا، جبکہ اصل اعداد و شمار، خصوصاً کیوسک میں بہاؤ، فراہم نہیں کیے جاتے جو معاہدے کے تحت لازمی ہیں۔

سیکرٹری وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارت اب معلومات انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے نہیں دیتا بلکہ دفترِ خارجہ کے راستے رابطہ کرتا ہے، جو کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

صحیح اعداد و شمار نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان کو سیٹلائٹ امیجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس میں تقریباً 25 فیصد تک فرق آ جاتا ہے اور نتیجتاً سیلابی خطرات یا ممکنہ نقصانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق مئی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت نے اگست اور ستمبر میں رابطہ کیا۔ 24 اگست سے 10 ستمبر کے دوران بھارت نے پاکستان کو 18 مرتبہ آگاہ کیا اور دفترِ خارجہ کو 18 نوٹ وربیل موصول ہوئیں، مگر یہ معلومات بھی ادھوری تھیں اور تفصیلات شامل نہیں تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی یہ رویت سندھ طاس معاہدے کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزی کے مترادف ہے، اور انڈس واٹر کمشنر کے باضابطہ چینل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس سے پاکستان کی واٹر مینجمنٹ اور حفاظتی اقدامات متاثر ہو رہے ہیں۔

Back to top button