انڈین آرمی چیف کا پاک بھارت جنگ میں شکست کا اعتراف

 

 

 

مئی 2025 کے بعد مسلسل اپنی فتح کا ڈھنڈورا پیٹنے والے انڈین آرمی چیف نے بالآخر اپنی شکست کا اعتراف کر لیا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی کا پاکستان کی برتری کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے پاس بھارتی فوج کی مکمل سیٹلائٹ معلومات موجود تھیں، جن کے ذریعے اسے یہ علم تھا کہ بھارتی فوج کا کون سا جہاز، کون سا طیارہ اور کون سی یونٹ کہاں موجود ہے اور کہاں سے کب پرواز کر رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی آرمی چیف کے بیان نے حقیقت میں بھارتی عسکری بیانیے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، کیونکہ انہوں نے کھلے الفاظ میں آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی واضح عسکری برتری کا اعتراف کر لیا ہے ۔یہ اعتراف نہ صرف بھارتی فوج کے ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے جو مئی 2025 کے بعد مسلسل کیے جاتے رہے، بلکہ یہ اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران معلوماتی برتری پاکستان کے پاس تھی، جو کسی بھی جدید جنگ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق دشمن کی نقل و حرکت، فضائی سرگرمیوں اور یونٹس کی بروقت نشاندہی جنگی حکمتِ عملی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور جنرل اُپندر دویدی کا یہ بیان اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان اس محاذ پر بھارت سے کہیں آگے تھا۔ یوں بھارتی آرمی چیف کا یہ اعتراف محض ایک بیان نہیں بلکہ بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے اپنی کمزوری اور پاکستان کی اسٹریٹیجک برتری کا باضابطہ اقرار تصور کیا جا رہا ہے۔

 

نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل اُپندر دویدی فرط جذبات میں پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے تسلیم کر بیٹھے کہ پاکستان کو سیٹلائٹس کے ذریعے بھارتی عسکری نقل و حرکت کی مکمل نگرانی حاصل تھی۔ پاکستانی اداروں کو یہ بخوبی علم تھا کہ بھارتی فوج کا کون سا جنگی جہاز، کون سا طیارہ اور کون سی عسکری یونٹ کہاں تعینات ہے، کون سا طیارہ کب اور کہاں سے پرواز کر رہا ہے اور کس وقت کس مشن پر روانہ ہو رہا ہے۔جنرل اُپندر دویدی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال نازک ہے، تاہم ان کے مطابق حالات اس وقت کنٹرول میں ہیں۔بھارتی آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین نے راکٹ فورس قائم کر رکھی ہے، اور بھارت کو بھی اسی طرز پر اپنی راکٹ فورس کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی آرمی چیف کے اس اعتراف نے نہ صرف بھارتی فوج کے دعووں کو چیلنج کیا ہے بلکہ پاکستان کی سٹریٹیجک برتری کو بھی تسلیم کر لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، جنرل دویدی کا یہ بیان بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے اپنی کمزوری کا اعتراف ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف معلوماتی برتری حاصل کی بلکہ دشمن کی نقل و حرکت اور فضائی سرگرمیوں کا بروقت تجزیہ کر کے آپریشن کی حکمت عملی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، آپریشن سندور میں پاکستان کی فضائی اور زمینی حکمت عملی اتنی مضبوط تھی کہ بھارتی فوج کی ہر حرکت پاکستان کی نظر میں تھی۔ بھارتی آرمی چیف کااعتراف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے ذریعے دشمن کی پیش قدمی پر قابو پایا۔ جومحض بھارت کیلئے فوجی ناکامی نہیں بلکہ پاکستان کی واضح برتری کی علامت ثابت ہوا۔”

جے ایف-17 تھنڈر کی مانگ میں اضافے کے بعد پروڈکشن میں تیزی

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ دشمن کی نقل و حرکت اور فضائی یونٹس کی بروقت شناخت کسی بھی جدید جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جنرل دویدی کے اعتراف کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان نے اس محاذ پر بھارت کو معلوماتی اور سٹریٹیجک طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف عسکری حکمت عملی کے حوالے سے اہم ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے جدید نگرانی، سیٹلائٹ اور فوجی حکمت عملی میں اپنے دشمن بھارت سے بہت آگے ہے۔

 

Back to top button