یو ٹیوب پر چھائے بھارتی صحافیوں کا پاکستان مخالف ایجنڈہ

تحریر : نصرت جاوید
بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت
بھارت میں گودی میڈیا کے نام سے مشہور ہوئے روایتی ٹی وی چینلوں کے مقابلے میں یوٹیوب پر چھائے چند نمایاں صحافیوں کے رویے پر حیرت ہورہی ہے۔ کچھ برس قبل تک وہ ’’سیکولر‘‘ شناخت کے حامل ہونے کی وجہ سے ہندوانتہاء پسندوں کی شدید تنقید کی زد میں رہے۔ مودی کے چاہنے والوں نے ان کی ذاتی زندگیوں میں نقب لگاکر انہیں بدکردار وبدعنوان ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انہیں نوکریوں سے نکلوانے کے لئے دبائو بڑھایا۔ روایتی چینلوں سے فارغ ہوکر وہ یوٹیوب کی فراہم کردہ خودمختاری کی بدولت اپنا صحافتی وجود برقرار رکھنے کی کاوشوں کو مجبور ہوگئے۔ ان میں سے چند صحافیوں نے نہایت لگن سے کووڈ کی وباء کے دوران مودی حکومت کی احمقانہ پالیسیوں کوبرسرزمین موجود حقائق کی بنیاد پر نہایت جرأت سے بے نقاب کیا۔ گزشتہ دو برس سے مگر ’’ہندوتوا‘‘ کو للکارنے کی وجہ سے مشہور ہوئے یہ صحافی مودی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسی کی حمایت میں شاہ سے زیادہ شاہ کے فرماں بردار ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر زہر اْگلنا ان کے یوٹیوب چینلوں کا یک وتنہا ہدف بن چکا ہے۔
روایتی میڈیا کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ریٹنگز درکار ہوتی ہیں۔ یوٹیوب پرچڑھائے ٹاک شوز کو دیکھنے والوں کی تعداد اینکرصحافی کی آمدنی کا تعین کرتی ہے اور اس پلیٹ فارم پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ناظرین کے دلوں میں نسلوں سے موجود نفرت اور تعصبات کو بھڑکایا جائے۔ پاکستان سے نفرت کی آڑ میں درحقیقت بھارت کی ہندواکثریت کے ذہنوں میں قیام پاکستان کے بعد سے جمع ہوئی کدورت کا اظہار ہوتا ہے جو اس ملک میں رہنے والے مسلمانوں پر اعتماد نہیں کرتی۔ شدت سے یہ محسوس کرتی ہے کہ سیکولرازم کے نام پر ماضی کی حکومتوں نے بھارتی مسلمانوں کی ضرورت سے زیادہ ناز برداری کی۔ ان کی مسلم شناخت کے تحفظ کے لئے خصوصی قوانین بنائے۔ مسلمان تب بھی بھارت کے وفادار ہونہ پائے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کا میچ ہو رہا ہو تو دل سے ہمیشہ بھارت کے ہارجانے کی دعائیں مانگتے ہیں۔
بھارتی مسلمانوں کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کے لئے نیٹ فلیکس جیسے پلیٹ فارموں کے لئے بھی ایسے ڈرامے تیار کروائے گئے جو شمالی بھارت ہی نہیں کیرالہ جیسے صوبوں میں بھی داعش اور القاعدہ جیسی انتہا پسند تنظیموں کی مقبولیت کو بڑھاچڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ’’ہیرا منڈی‘‘ کے نام سے بنائے سلسلے بھی ہندواکثریت کو برطانوی سامراج کی اصل دشمن بناکر اجاگر کرتی ہے۔ تاریخ کی من پسند تشریح کے ذریعے مسلمانوں کی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ بھارت کا ہر چھٹارہائشی مسلمان ہے۔ 20کروڑ سے زائد مسلمانوں کو اجتماعی طورپر دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کرتے ہوئے معاشرے میں امن واستحکام کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔ مسلمانوں سے نفرت کا سودا مگر روایتی میڈیا ہی میں نہیں سوشل میڈیا پربھی مستقل رش لے رہا ہے۔ یوٹیوب چینلوں اور نیٹ فلیکس جیسے عالمی پلیٹ فارموں کے لئے بنائے ڈرامائی سلسلوں کے ذریعے مسلمانوں کو جس انداز میں پیش کیا گیا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے مگر مودی حکومت کی گزشتہ چند مہینوں سے کابل میں فاتح بن کر لوٹے طالبان کے ساتھ بڑھتی ہوئی محبت مجھے حیران کئے جارہی ہیں۔
مودی حکومت اور فاتح بن کر لوٹے طالبان کے مابین گہری ہوتی قربت کا مشاہدہ کرتے ہوئے مجھ بدنصیب کو رواں صدی کے پہلے برس یعنی 2000ء کے موسم بہار کے دوران بھارت میں گزارے تین ماہ یاد آجاتے ہیں۔ ان دنوں جس صحافتی ادارے سے وابستہ تھا وہ مجھے بھارت میں اپنا مستقل نمائندہ بناکر وہاں تعینات کرنا چاہتا تھا۔ میں اپنی بچیوں کو لیکن دادا-دادی اور نانا-نانی سے جدا رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ تین ماہ بھارت میں رہ کر دو ماہ پاکستان میں گزارتے ہوئے وہاں مستقل قیام سے جندچھڑانے کی کوشش کی۔
میرے بھارت جانے سے تین ماہ قبل نیپال سے دلی جانے والا ایک بھارتی طیارہ اغواء ہوگیا تھا۔ امرتسر اور دوبئی سے ہوتے ہوئے بالآخر یہ طیارہ قندھار پہنچ گیا۔ وہاں طالبان برسراقتدار تھے۔ ان کے ذریعے اغواء ہوئے طیارے اور مسافروں کی بازیابی کیلئے مذاکرات ہوئے۔ بھارتی طیارہ نیپال سے اڑ کر افغانستان کے شہر قندھار سے بازیاب ہوا تھا۔ بھارت میں لیکن تین ماہ قیام کے دوران سرِ راہ مل جانے والا بھارتی شہری بھی مجھے طالبان کا حامی تصور کرتے ہوئے اس طیارے کے اغواء کے حوالے سے نفرت بھری گفتگو شروع کردیتا۔
طالبان اب ایک بار پھر افغانستان میں برسراقتدار ہیں۔ ان کے اقتدار کو پاکستان نے دیگر ممالک کی اکثریت کی طرح باقاعدہ حکومت کے طورپر تسلیم نہیں کیا۔ بھارت نے مگر وہاں اپنا سفارتخانہ چالو کررکھا ہے۔ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے قبل افغان وزیر خارجہ نے بھارت کا دورہ بھی کیا۔ وہاں قیام کے دوران خصوصی طورپر دیوبند بھی گیا اور وہا ں سے دینی علم کی سند لے کر درحقیقت بھارت کے ساتھ دیوبند کی بدولت قریبی نسبت کو اجاگر کیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی اس تناظر میں ’’بھارت ماتا‘‘ کو نقصان پہنچانے والے دو قومی نظریے سے وابستہ کردی گئی۔
طالبان کے وزیر خارجہ نے دورہ دیوبند کے ذ ریعے جو پیغام دیا اسے ہمارے میڈیا نے اہمیت ہی نہ دی۔ بھارتی میڈیا بھی دشمن کے دشمن کو اپنا دوست شمار کرتی منطق استعمال کرتے ہوئے اس کے بارے میں شاداں محسوس کرتا رہا۔ یوٹیوب پر چھائے ماضی کے ’’سیکولر‘‘ ہیرو پیر کے روز سے پاکستان کی جانب سے گزشتہ ہفتے افغانستان میں قائم دہشت گردی کے سات ٹھکانوں پر ہوئے فضائی حملوں کا طنزوحقارت سے ذکر کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہیں کامل یقین ہے کہ جبلی طورپر‘‘ شجاع اور بہادر طالبان‘‘ان حملوں کا ’’منہ توڑ جواب‘‘ دیتے ہوئے ریاست پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کردیں گے۔
کابل میں فاتح کی حیثیت میں لوٹے طالبان کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی مشکلات کا جی کو تسلی دیتے لہجے اور الفاظ میں ذکر کرتے ہوئے یوٹیوب پر چھائے ’’ماہرین ا مور خارجہ‘‘ اس حقیقت سے قطعی غافل سنائی دئیے کہ تاریخی اعتبار سے وسطی ایشیاء اور افغانستان سے اٹھے لشکروں نے اٹک پار کرلینے کے بعد اپنے حتمی پڑائو کے لئے ہمیشہ دلی کا انتخاب کیا تھا۔ اس تناظر میں فقط اتنا یاد کرلیں کہ پانی پت کی تیسری اور آخری لڑائی کے مرکزی فریق کون تھے۔ یاد نہ آئے تو بتادیتا ہوں کہ 1761ء کی جنوری میں ہوئی اس جنگ کو افغانستان سے آئے احمد شاہ ابدالی نے جیتا تھا۔مرہٹہ لشکر کو شکست دینے کے بعد وہ دلی میں رہ کر پورے بھارت پر راج کرنے کے بجائے کابل لوٹ گئے تھے۔ اپنے طویل صحافتی سفر کے دوران مختلف نظریات کے حامل کئی افغان افراد سے گہری دوستیاں بھی ہوئیں۔ کٹرکمیونسٹ کے علاوہ انتہا پسند طالبانی سوچ کے حامل افغان بھی اکثر نجی محفلوں میں اس امر پر افسوس کرتے کہ بھارت میں مغلوں کی طرح اپنی سلطنت قائم کرنے کے بجائے احمد شاہ ابدالی افغانستان کیوں لوٹ گئے تھے۔ ا فغانستان کی اجتماعی یادداشت میں بھارت قبضے کے قابل رقبہ شمار ہوتا ہے۔ اس یادداشت کی شدت کا مگر یوٹیوب پر چھائے بھارتی صحافیوں کو اندازہ نہیں۔ سمجھ ہی نہیں پارہے کہ ریاستِ پاکستان کا طالبان کے مقابلے میں استحکام وسیع تر تناظر میں بھارت کے لئے بھی حفاظتی حصار کی حیثیت رکھتا ہے۔
