پی سی بی کے خلاف بھارتی لابی سرگرم، ایشیا کپ پر فیصلہ جمعرات کو متوقع

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد یا التوا کا فیصلہ جمعرات کو متوقع ہے، تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ مسلسل ایسی سازشوں میں مصروف ہے جن کا مقصد ایونٹ کو ناکام بنانا اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو مالی نقصان پہنچانا ہے۔ اگر ٹورنامنٹ منسوخ ہوتا ہے تو پاکستان کو تقریباً 1.16 ارب روپے کا خسارہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی کوشش ہے کہ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو بطور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) صدر ناکام دکھایا جائے۔ بھارت کے ساتھ سری لنکا اور افغانستان بھی اس لابی کا حصہ ہیں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں شریک ہیں۔
اے سی سی کا اہم اجلاس جمعرات کو ڈھاکا میں چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت طلب کیا گیا ہے، جس میں ایشیا کپ کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ بھارت، جو ٹورنامنٹ کا میزبان ملک ہے، اجلاس میں شرکت سے گریز کر رہا ہے اور ڈھاکا میں اجلاس منعقد ہونے کی مخالفت کر رہا ہے۔
اے سی سی کے آئین کے مطابق اجلاس کی قانونی حیثیت کے لیے کم از کم تین ٹیسٹ کھیلنے والے ممبر ممالک کی موجودگی ضروری ہے، جبکہ 10 مکمل یا ایسوسی ایٹ ممبران کی شمولیت بھی درکار ہے۔ تاہم بھارت، سری لنکا اور افغانستان اجلاس میں شرکت کے حق میں نہیں ہیں، جس کے باعث کورم پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے حالیہ دورۂ کابل کے دوران افغانستان سے ڈھاکا اجلاس کی حمایت مانگی، مگر افغان کرکٹ بورڈ نے بھارت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم کا طویل عرصے تک ہوم گراؤنڈ بھارت کا شہر دہرادون رہا ہے۔
ادھر بھارتی بورڈ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اجلاس ڈھاکا سے منتقل نہ ہوا تو وہ ایشیا کپ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔ معاملہ کرکٹ سے نکل کر جیوپولیٹیکل تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کو اے سی سی کے ایگزیکٹو بورڈ کا رکن نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت ڈھاکا میں موجود ہیں اور اجلاس سے متعلق تمام امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔
پاکستان شاہینز سکواڈ میں شامل ساجد خان انگوٹھے کی انجری کے باعث انگلینڈ دورے سے باہر
بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اگر ایشیا کپ نہ ہوا تو پی سی بی کو بھاری مالی نقصان ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق پی سی بی کو ایشیا کپ اور دیگر بین الاقوامی ایونٹس سے 8.8 ارب روپے آمدنی کی توقع ہے، جس میں ایشیا کپ سے ملنے والی 1.16 ارب روپے کی رقم بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں، بھارت، سری لنکا، افغانستان، عمان اور چند دیگر ایسوسی ایٹ بورڈز نے ڈھاکا جانے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ بھارت نے تو اپنا نمائندہ بھیجنے یا ویڈیو لنک سے شرکت کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ صرف تین دن پہلے برمنگھم میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت نے پاکستان چیمپئن ٹیم کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے باعث میچ منسوخ ہو گیا۔ اس فیصلے سے بھارتی بورڈ کے رویے اور ارادوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پی سی بی ترجمان نے بھارتی میڈیا کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔”
