انڈین جہاز گرنے کی تصدیق، ٹرمپ نے جھوٹی مودی سرکار کو ننگا کر دیا

بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کی شکست اور رافیل سمیت اس کے پانچ جنگی جہاز گرانے کی تصدیق کرتے ہوئے مودی سرکار کو ننگا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتا دیا کہ دراصل بھارت پاکستان پر پہلگام حملے کا جھوٹا الزام لگا کر حملہ آور ہوا تھا لیکن پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پاکستان پر جو جنگ مسلط کی تھی وہ ایک ایٹمی جنگ کی جانب بڑھ رہی تھی لہذا انہوں نے اس کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حقیقت میں پانچ انڈین جنگی طیارے گر چکے تھے اور اگر بروقت مداخلت نہ کی جاتی تو حالات مزید بگڑ سکتے تھے۔ یاد رہے کہ بھارت نے آج دن تک پاکستان ایئر فورس کے ہاتھوں جوابی حملوں میں اپنے جہاز گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی حالانکہ اب تو اس کے مارے جانے والے پائلٹس کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے انکشاف نے وزیراعظم نریندر مودی کے لیے شرمندگی کے علاوہ نئی مشکل بھی کھڑی کر دی ہے چونکہ بھارتی اپوزیشن پہلے ہی انہیں پاکستان سے بلاوجہ پنگا لے کر مار کھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

یاد رہے کہ یہ تنازعہ اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں نامعلوم افراد کے حملے سے شروع ہوا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیابتھو، تاہم اسلام آباد نے یہ الزام مسترد کرتے ہوئے حملے کی غیر جانبدار تحقیقات میں پورا تعاون کرنے کی پیشکش کی تھی۔

امریکا نے حملے کی مذمت کی تھی لیکن پاکستان پر الزام کی حمایت نہیں کی تھی۔

بعد ازاں 7 مئی 2025 کو بھارت نے طاقت کے نشے میں پاکستان پر جنگ مسلط کردی،  پاکستانی افواج خصوصا ائیر فورس نے بھر پور دفاع کیا اور اور فرانسیسی ساختہ مہنگے اور جدید ترین رافیل جنگی طیاروں سمیت بھارتی فضائیہ کے 5 جہاز مار گرائے۔ اگرچہ بھارت مسلسل ان طیاروں کی تباہی کی تصدیق سے انکاری رہا لیکن امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ طیارے واقعی تباہ ہوئے تھے۔ اپنے جنگی جہاز گرنے پر خاموشی اختیار کرنے والی مودی سرکار کو حال ہی میں تب سخت شرمندگی کا ثابت سامنا کرنا پڑا جب بھارتی میڈیا نے یہ خبر بریک کر دی کہ حالیہ جنگ میں چار پائلٹس سمیت 250 سے ذیادہ بھارتی فوجی مارے گے تھے۔ انڈین میڈیا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپریشن سندھور کے دوران بھارتی فوج کو پاکستان کے ہاتھوں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ بھی تسلیم کر لیا گیا کہ جوابی کاروائی کے دوران مارے جانے والے چار میں سے تین بھارتی پائلٹس رافیل طیارے اڑا رہے تھے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے طیارے بھی تباہ ہو  گے تھے۔

مودی سرکار شاید اور کئی مہینے بھی یہ خبر چھپائے رکھتی لیکن مرنے والے فوجیوں کو اعزازات دینے کے حکومتی فیصلے نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا۔ اعزازات کے لیے جاری کی گئی سرکاری لسٹ سے ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کی اصل تعداد منظر عام پر آ گئی۔

بھارتی فوج نے یہ بھی اعتراف کر لیا کہ ادھم پور ائیربیس پر اس کا جدید ترین ایس-400 فضائی دفاعی نظام آپریٹ کرنے والے 5 آپریٹرز بھی پاکستانی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ادھم پور میں ائیر ڈیفنس یونٹ کے 9 اہلکاروں کو بھی فوجی اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایئر فورس کی جوابی کاروائی میں بھارت کا اربوں روپے کے عوض روس سے حاصل کردہ جدید ترین ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو گیا تھا۔

اسکے علاوہ راجوڑی کی ایوی ایشن بیس پر مارے گئے دو فوجی اہلکاروں اور اڑی سپلائی ڈپو کے کمانڈر سمیت چار مزید فوجی افسران بھی اس لسٹ میں شامل ہیں جنہیں بھارتی حکومت فوجی اعزازات دینے والی ہے۔ یاد رہے کہ عموما جنگوں کے بعد ایسے فوجی افسران کو سرکاری اعزازات سے نوازا جاتا ہے جنہوں نے دشمن کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہو۔ تاہم بھارت میں یہ روایت نظر نہیں آتی چونکہ 2019 میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں گرائے جانے والے بھارتی طیارے کے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو بھی وطن واپسی پر اعزاز سے نوازا گیا تھا حالانکہ وہ اپنے ملک کے لیے باعث شرمندگی بنا تھا۔

Back to top button