انڈین یوٹیوبرز پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام پر کیوں گرفتار ہوئے؟

بھارتی حکام نے حالیہ جنگ میں پاکستان سے شکست کھانے کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لیے آپریشن سندور کی خفیہ تفصیلات پاکستان کو فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے ہی شہریوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کی ریاست ہریانہ اور پنجاب کی پولیس نے پاکستانی حکام کو آپریشن سندور کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں چند بھارتی شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن میں دو یوٹیوبر جیوتی ملہوترا اور دیویندر سنگھ نمایاں ہیں۔ جیوتی ملہوترا کا تعلق ہریانہ کے شہر حصار سے ہے اور وہ ایک ٹریول بلاگر اور یوٹیوبر ہیں۔ ان کے علاوہ ہریانہ کے شہر کیتھل کے مست گڑھ گاؤں سے 25 سالہ دیویندر سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے، پنجاب کے مالیرکوٹلا سے بھی ایک خاتون اور ایک نامعلوم شخص کو گرفتار کیا گيا ہے۔ انڈین سوشل میڈیا پر ان لوگوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے جیوتی ملہوترا کے یوٹیوب اور انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔ جیوتی کو پانچ دن کے لیے پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا گیا ہے۔

دونوں ریاستوں کی پولیس سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ بعض پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے اور انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے ’آپریشن سندور‘ سے متعلق معلومات ان کے ساتھ شیئر کر رہے تھے۔ جیوتی ملہوترا ایک ٹریول بلاگر ہیں۔ انھوں نے اپنے یوٹیوب چینل کا نام ‘ٹریول ود جو’ رکھا ہے۔ انھوں نے اپنے چینل پر مختلف ممالک میں اپنے سفر کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ جیوتی نے اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستان کے دورے کے بارے میں بھی کئی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔

بھارتی پولیس نے حصار کی رہنے والی جیوتی ملہوترا کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور بی این ایس 152 کے تحت گرفتار کیا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جیوتی کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے کچھ مشتبہ معلومات ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق ’ہم نے اسے پانچ روز کی ریمانڈ پر لے لیا ہے اور پوچھ گچھ کی جاری ہے، وہ جنگ کے دوران ایک پاکستانی شہری سے مسلسل رابطے میں تھیں، اس بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔‘

جیوتی کے والد ہریش کمار نے بتایا کہ جیوتی صرف ایک بار پاکستان گئی ہے۔ انھوں نے کہا: ’میری بیٹی بھارتی حکومت کی اجازت سے پاکستان گئی تھی، اسے چیک بھی کیا گیا اور پھر اسے ویزا دیا گیا، جس کے بعد ہی وہ پاکستان گئی۔‘ ہریش کے مطابق وہ نہیں جانتے کہ جیوتی کونسا یوٹیوب چینل چلاتی ہے۔ بہرحال جیوتی کے یوٹیوب پر تین لاکھ 80 ہزار سبسکرائبر ہیں۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خانہ بدوش یعنی گھومنے پھرنے کا شوق رکھنے والی لڑکی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے لکھا ہے کہ وہ ’پنجاب اور ہریانہ کی گھومنے والی‘ لڑکی ہیں۔ پھر اپنے آپ کو ’پرانے خیالوں کی ماڈرن لڑکی‘ بتایا ہے۔ انھوں نے اپنے انسٹا گرام پر بھی یہی کوائف لکھے ہیں۔ اس سوشل سائٹ پر ان کے ایک لاکھ 36 ہزار فالورز ہیں جبکہ فیس بک پر ان کے تین لاکھ 22 ہزار فالوئرز ہیں۔

انھوں نے انڈیا کی ٹرینوں سے سفر کے دوران اپنی ویڈیوز شیئر کیے ہیں جن میں ’وندے بھارت‘ کی افتتاحی تقاریب کی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ ان کی حالیہ ویڈیوز میں ان کا انڈونیشا کے سفر اور بالی کے سفر کی روداد ہے۔ ‘انڈین گرل ان پاکستان’ نامی ان کی ایک ویڈیو کو ایک کروڑ 20 لاکھ ویوز ملے ہیں۔ یہ ایک سال سے زیادہ عرصہ پرانی ویڈیو ہے اور ان کی مقبول ترین ویڈیوز میں شامل ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والا نوجوان کون ہے؟ ہریانہ پولیس کے مطابق کیتھل کے مست گڑھ گاؤں کے رہائشی 25 سالہ دیویندر سنگھ کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ملزم پر انڈین فوج کے ’آپریشن سندور‘ سے متعلق معلومات سمیت خفیہ فوجی معلومات بھیجنے کا الزام ہے۔ ہریانہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈٹ آف پولیس ویر بھان سنگھ نے کہا کہ دیویندر سنگھ کو اس سے قبل 13 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر غیر قانونی ہتھیاروں کے بارے میں پوسٹ کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

ڈی ایس پی ویر بھان نے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’ملزم دیویندر سنگھ کرتار پور صاحب کی زیارت کے بہانے پاکستان گیا تھا، جہاں وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رابطے میں آیا۔ انڈیا واپس آنے کے بعد وہ فوج سے متعلق حساس معلومات پاکستان کو بھیجتا رہا ہے۔’ پولیس کے مطابق ‘پٹیالہ میں زیر تعلیم دیویندر سنگھ نے اپنے موبائل فون سے آرمی کینٹونمنٹ علاقے کی کچھ تصاویر لی تھیں اور انھیں آئی ایس آئی ایجنٹس کو بھیجا تھا۔’ پولیس نے دیویندر کے موبائل فون اور دیگر آلات کو ضبط کر لیا ہے اور ان میں موجود مواد کی جانچ کی جا رہی ہے۔

انڈیا کی شکست کے بعد عمران کی رہائی کا امکان ختم کیوں ہو گیا؟

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کئی انڈین شہریوں کو پڑوسی ملک پاکستان کو حساس معلومات شیئر کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے لیکن اس سے قبل ان حراستوں پر اس قدر شور برپا نہیں ہوتا تھا۔

Back to top button