انڈیا کا پاکستانی دریاؤں کو خشک کرنے کا شیطانی منصوبہ بے نقاب

عسکری محاد پر دندان شکن جواب ملنے کے بعد انڈیا نے پاکستان کو آبی جارحیت کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے پاکستان کو آبی دہشتگردی کا نشانہ بنانے کیلئے مودی سرکار نے دریائے سندھ کو دریائے راوی اور بیاس سے جوڑنے کے منصوبہ بندی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی کو ستلج کے راستے بھارتی پنجاب میں ہریکے بیراج کی طرف موڑا جائے گا جس سے پاکستان میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک کم ہو جائے گا اور لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہو جائے گی۔

بھارتی اخبار "انڈیا ٹوڈے” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کر نے کے بعد اب ایک طویل مدتی حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے پاکستان کو مستقبل میں بوند بوند پانی کے لیے ترسایا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت پہلگام کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہے اور اس نے دریائے سندھ، ستلج اور بیاس کا پانی پاکستان کو روکنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دریائے سندھ کو دریائے راوی-بیاس سے جوڑا جائے گا، جس کے لیے پانی کو ستلج دریا کے ذریعے ہریکے بیراج کی طرف موڑا جائے گا۔یہ میگا کینال تقریباً 200 کلومیٹر طویل ہوگی، اور اس میں 12 بڑی سرنگوںکی تعمیر شامل ہے۔ ان سرنگوں سے بہنے والا پانی "اندرا گاندھی کینال” اور کچھ دیگر نہروں، بشمول راجھستانی”گنگا کینال” میں بہے گا اور بالآخر دریائے یمنا میں جا کر گرے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے جہاں بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے میں مدد ملے گی وہیں بھارت اپنے کئی بنجر علاقوں کو بھی سر سبز و شاداب کر پائے گا۔
مبصرین کے مطابق بھارت کافی عرصے سے پاکستان کا پانی روکنے کا منصوبہ بنا رہا تھا تاہم عالمی دباؤ کی وجہ سے منصوبے پر عملدرآمد سے گریزاں تھا تاہم اب حالیہ کشیدگی کے دوران مودی سرکار اپنا شیطانی منصوبہ سامنے لے آئی ہے ۔حقیقت میں بھارت نے دریائے سندھ، جہلم اور چناب کو سرنگوں کے ذریعے موڑنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، تاکہ پاکستان کی آبی زندگی چھین لی جائے۔ مودی حکومت کے باضابطہ طور پر ظاہر کئے گئے شیطانی منصوبے کے تحت ایک 200 کلومیٹر طویل میگا کینال اور 12 بڑی سرنگیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ پاکستان کا دریائی پانی بند کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے خبریں سامنے آئی تھیں کہ مودی سرکار کے حکم پر دریائے چناب پر بنائے گئے بگلیہار ڈیم پر سلائس سپل ویز کے گیٹ نیچے کی طرف سرکا دئیے گئے ہیں تاکہ دریائے چناب کے ذریعے پاکستان کی طرف آنے والے پانی کے بہاؤ کو محدود کیا جا سکے۔دوسری جانب اطلاعت کے مطابق بھارت نے کشن گنگا ڈیم کے ذریعے دریائے جہلم کا پانی روکنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کے فیصلے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق چناب پاکستان کے ملکیتی دریاؤں میں سے ایک ہے۔ تاہم انڈیا نے پاکستان کے ملکیتی دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم کو ہائیڈرو پاور جنریشن کیلئے رن آف دی ریور پلانٹ کے طور پر ڈیزائن کر رکھا ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ بھارت کو بجلی کی پیداوار کیلئے چناب کے پانی کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تاہم بھارت نے بجلی کی پیداوار کیلئے بنائے گئے بگلیہار ڈیم کو آبی دہشتگردی کیلئے ا ستعمال کرنا شروع کر رکھا ہے اور مسلسل بگلیہار ڈیم کے ذریعے پاکستان کا پانی روک رہا ہے۔

آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں کے علاقے رامبن میں واقع بگلیہار ڈیم میں 3 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت اگلے قدم کے طور پر شمالی مقبوضہ کشمیر کے کشن گنگا ڈیم میں بھی پانی روکنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے بعد دریائے جہلم میں پانی کم ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ کشن گنگا میں 15 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔دوسری جانب بھارتی حکام کا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہمارا اگلا ہدف کشن گنگا ڈیم کے ذریعے دریائے جہلم کا پانی روکنا ہے، ہم جلد کشن گنگا کے ذریعے بھی پاکستان کا پانی روک دیں گے.ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار بنانے کا یہ عمل خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے، بھارت باز نہ آیا تو بھارتی آبی جارحیت کے بعد دونوں ممالک کے مابین پانی کے مسئلے پر کھلی جنگ ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف پاکستانی انڈس واٹر کمیشن نے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات حکومت کو بھجوا دی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بھارت 3 ڈیموں کی تعمیر کر کے عملی طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہےذرائع انڈس کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارت نے 2005میں بگلیہار ڈیم، 2010میں کشن گنگا ڈیم اور 2016میں رتلے ڈیم کی تعمیر پر معاہدے کو نظر انداز کیا۔ تینوں بار بھارت کو ورلڈ بینک اور نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ بھارت نے تینوں ڈیموں کی تعمیر اپنی سیاست چمکانے کیلئے شروع کی تاہم اب بھارت نے انھی ڈیمز کو آبی دہشتگردی کے لئے استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا پانی مکمل بند کرنے کو کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی حدوں کو چھوتی دکھائی دے رہی ہے۔

Back to top button