پاکستان کو دلال قرار دینے والا جے شنکر بھارتیوں کے عتاب کا شکار

بھارت کے منہ پھٹ وزیرِ خارجہ جے شنکر کو پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں پر “بروکر ملک” کا لیبل لگانا مہنگا پڑ گیا۔ اپنی بیہودہ گوئی پر وہ نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے ہی ملک میں سیاسی حلقوں کی شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایران امریکہ مذاکرات میں سہولتکاری کی وجہ سے پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے مودی سرکار خوف کا شکار ہے کہ اگر پاکستانی کوششوں سے ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے تو بھارت تو مکمل وڑ جائے گا۔ اسی وجہ سے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر اپنی سفارتی ناکامی اور جھنجھلاہٹ چھپانے کے لیے ایسے بیہودہ اور جذباتی بیانات دینے پر اتر آئے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ان کی ساکھ بلکہ بھارت کی عالمی شبیہ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

خیال رہے کہ 25 مارچ کے روز ایک بند کمرہ اجلاس میں پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کی پیشکش پر بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر کا کہنا تھا کہ بھارت امن کا داعی ضرور ہے لیکن "انڈیا پاکستان کی طرح بروکر ملک نہیں بننا چاہتا”۔ جے شنکر کا ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی اہمیت کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ انڈیا "دلال ملک نہیں بننا چاہتا جو دیگر ممالک کے پاس جا کر پوچھے کہ انھیں ہماری خدمات کی ضرورت ہے یا نہیں”جے شنکر کے اس بیان پر نہ صرف پاکستانی وزارتِ خارجہ نے سخت ردعمل دیا بلکہ بھارت میں بھی اسے ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔ اس حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ”ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل محض بیان بازی کی بجائے تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا جے شنکر کےبیان کو ان کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ "جے شنکر خود کو ایک ’ہائی فائی دلال‘ سمجھتے ہیں اس لئے وہ سب کو اپنی نظر سے ہی دیکھتے ہیں۔صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جے شنکر "سفارتی ڈیمینشیا کے شکار ہیں اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مودی کے دلال ہیں اور مودی نتن یاہو کے دلال ہیں”۔  سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ "میں نے کبھی کسی وزیرِ خارجہ کو اتنی گری ہوئی بات کرتے نہیں دیکھا۔ یہ انڈیا کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال میں کسی کردار سے محروم رہ گیا کوئی بھی اسے منہ نہیں لگا رہا”۔

ایران اور امریکہ میں سفارت کاری سے بھارت کی نیندیں حرام

جے شنکر کے بیان پر جہاں پاکستان میں سخت ردعمل سامنے آیا وہیں بھارت میں بھی اس پر شدید تنقید کی گئی۔ انڈین وزیر خارجہ کے بیان پر کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ "وزیرِ خارجہ نے انڈیا کی سفارتی ناکامی اور علاقائی شرمندگی چھپانے کے لیے پاکستان کو دلال ملک کہنے کا انتخاب کیا”۔ صحافی سوحاسنی حیدر نے بھی لکھا کہ پاکستان کو دلال ملک قرار دینا حیران کن ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ گزشتہ سال امریکہ نے متعدد تنازعات میں ثالثی کی، جن میں انڈیا اور پاکستان بھی شامل تھے۔

سوشل میڈیا پر بھی جے شنکر کے بیان پر شدید ردعمل آیا۔ ایک صارف علی چشتی نے لکھا کہ ” امن کی کوششوں کو صرف اس لئے دلالی کہنا کہ آپ کو مذاکرات کی میز پر نہیں بلایا گیا، یہ سفارت کاری نہیں، بلکہ عدم اعتماد کی علامت ہے”۔ پراویش جین نے کہا کہ "فرض کریں جنگ میں شامل تمام ممالک نئی دہلی کو مذاکرات کے مقام کے طور پر منتخب کر لیں تو کیا ہم خود کو دلال ملک کہیں گے؟ یقیناً نہیں، لیکن جے شنکر نے عالمی امن کی کوششوں کو دلالی سے تعبیر کرکے بتا دیا ہے کہ حقیقت میں وہ خود بہت بڑے دلال ہیں جو اپنی نااہلی چھپانے کیلئے دوسروں پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔

Back to top button