مہنگائی میں نمایاں کمی آگئی،وزارتِ خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ جاری

وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2024-25 کے لیے ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں جبکہ مہنگائی میں بھی نمایاں کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران شرحِ نمو 2.68 فیصد رہی جبکہ مہنگائی کی شرح 23.4 فیصد سے گھٹ کر 4.5 فیصد تک آ گئی، جو ایک بڑی پیش رفت ہے۔
وزارت نے انکشاف کیا کہ 14 سال بعد جاری کھاتوں (کرنٹ اکاؤنٹ) میں 2.1 ارب ڈالر کا سالانہ سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ مالی خسارہ بھی کم ہوکر جی ڈی پی کا 3.1 فیصد رہ گیا۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مئی 2025 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 2.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جبکہ یہ اضافہ جون میں بھی جاری رہا اور توقع ہے کہ جولائی میں بھی برقرار رہے گا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ترسیلاتِ زر، برآمدات، درآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر 30 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، برآمدات میں 4.2 فیصد اور درآمدات میں 11.1 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایف بی آر کے محصولات اور نان ٹیکس آمدن میں بھی بہتری آئی، جبکہ ملکی مجموعی مالی ذخائر 19.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ تاہم، روپے کی قدر میں سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں 5 روپے کی کمی ہوئی۔
وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے دوران زراعت میں جدت لانے، صنعتی پیداوار کو فروغ دینے اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ایکسچینج ریٹ کے استحکام اور بیرونی طلب میں اضافے سے برآمدات میں مزید بہتری آئے گی۔
مزید یہ کہ جولائی 2025 کے دوران مہنگائی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
