پاکستان کو یوکرائن سے متعلق حکمت عملی سے آگاہ کردیا

امریکہ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے دورہ روس کی ٹائمنگ پر تبصرہ نہیں کر سکتے، پاکستان کو یوکرائن سے متعلق اپنی حکمت عملی سے آگاہ کر دیا ہے۔اُمید ہے وزیراعظم عمران خان بات چیت کے دوران یوکرین تنازعے پر کھل کر خدشات کا اظہار کریں گے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان روس کےدو روزہ سرکاری دورے پر ہیں ۔ گذشتہ رات وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، عمران خان کا طیارہ اب سے کچھ دیر قبل روس کے دارالحکومت لینڈ کر گیا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے طیارے کی ماسکو ائیرپورٹ لینڈنگ کی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔
ماسکو ائیرپورٹ پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، انہیں خصوصی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاکستانی اور روسی حکام نے ماسکو ائیرپورٹ پر وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے تاریخی دو روزہ دورہ روس کیلئے بدھ کے روز ماسکو کیلئے روانہ ہوئے۔ دورہ روس کے دوران وزیراعظم عمران خان سے اہم روسی قیادت ملاقاتیں کریں گے۔
روس کے دورے کے دوران وفاقی وزراء مخدوم شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، اسد عمر، حماد اظہر، مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور عامر محمود کیانی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔ صدر پیوٹن اور وزیر اعظم کی ملاقات اس دورہ کا اہم ترین جزو ہوگا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم ماسکو میں روس کی سب سے بڑی مسجد و اسلامک سنٹر کا دورہ کریں گے۔
روس کا یوکرائن پر حملہ، تیل، سونا مزید مہنگا،سٹاک مارکیٹکریش
وزیراعظم عمران خان سے اہم روسی قیادت بشمول نائب وزیر اعظم، روسی سرمایہ کار اور تاجر ملاقاتیں کریں گے۔ صدر پیوٹن سے ملاقات میں وزیر اعظم بین الاقوامی اور خطے کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ملاقات میں روس پاکستان دوطرفہ تعلقات خصوصاً توانائی شعبے پر بات چیت ہوگی۔ اسلاموفوبیا اور افغانستان کی صورتحال بھی زیر غور لائی جائے گی۔
وزیر اعظم کا دورہ، روس اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ وزیرِ اعظم عمران خان دو دہائیوں کے بعد پہلے پاکستانی وزیرِ اعظم ہیں جو روس کا دورہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا، جس کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکے سنے گئے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر خصوصی فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے یوکرین کی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جبکہ یوکرین کے صدر زیلینسکی نے مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کردیا، صدر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ روس نے ہمارے انفراسٹرکچر اورسرحدی محافظوں پر میزائل حملے کیے، یوکرین کے کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
دریں اثنا یوکرین کی فوج کی مسلح افواج نے کہا کہ اس نے ملک پر روسی حملے کو روکتے ہوئے 5 روسی طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔یوکرین کی افواج کے جاری کردہ کے بیان میں کہا گیا کہ ‘پرسکون رہیں اور یوکرین کے محافظوں پر یقین رکھیں تاہم روس کی وزارت دفاع نے اس بات کی تردید کی کہ اس کا جنگی طیارہ مار گرایا گیا ہے۔
