اگرعمران نے آخری کارڈ استعمال کر دیا تو کیا ہوگا؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا فوری ایجنڈا عمران خان کو اقتدار سے نکالنا ہے لہذا مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے علاوہ کچھ طے نہیں ہوا۔ تمام اہم فیصلے عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ہوں گے لیکن عمران خان کے ہاتھ میں ایک کارڈ اب بھی موجود ہے، اگر وہ کارڈ چل گیا تو صورت حال یکسر بدل جائے گی اور ریاست پاکستان شہباز شریف کے بجائے ایک مرتبہ پھر شہباز گل سے کام چلانے پر مجبور ہو جائے گی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے بارے میں آج تک یہی بتایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں اور سیاست نہیں جانتے۔ میں بھی یہی سمجھتا تھا لیکن آج حالات یکسر مختلف ہیں، اپوزیشن پارٹیاں ہوں، حکومت ہو، اس کے اتحادی ہوں، پی ٹی آئی کے منحرف ارکان ہوں یا پھر فیصلہ ساز قوتیں ہوں یہ سب شہباز شریف کے آگے پیچھے پھر رہے ہیں، کیا یہ سیاست نہیں اور اگر یہ بھی سیاست نہیں تو پھر سیاست کیا ہوتی ہے؟

وہ شخص جسے ساڑھے تین برس عدالتوں اور جیلوں میں گھسیٹا گیا اور جسے حکومت ہر صورت 2022 سے پہلے تیسری بار جیل میں دیکھنا چاہتی تھی، وہ جیل سے بھی باہر رہا اور ساری پارٹیاں مل کر اسے وزیراعظم بھی بنا رہی ہیں، کیا یہ سیاست نہیں ؟ حکومت ساڑھے تین سال یہ سمجھتی اور کہتی رہی ن لیگ سے ش لیگ نکلے گی۔ نواز شریف کسی صورت اپنے بھائی کو وزیراعظم نہیں بنائیں گے اور یہ کرسی مریم نواز کے پاس جائے گی، لیکن شہباز شریف نے اپنے بھائی کو بھی راضی کر لیا،

کیا یہ بھی سیاست نہیں؟ لہٰذا شہباز اب اگر وزیراعظم نہیں بھی بنتے تو بھی یہ خودکو سیاست دان ثابت کرنے میں کام یاب ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا ہوگا؟ انکے بقول یہ ایک ارب روپے کا سوال ہے اور اس کے جواب کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ یہ کہ کیا انکی حکومت کام یابی سے چل جائے گی؟ اس کا سیدھا اور سادا جواب ہے‘ نہیں‘، نئی حکومت مشکل سے چھ ماہ نکالے گی، نئے آرمی چیف کی تقرری کے ساتھ ہی وہ حکومت ختم ہو جائے گی اور ملک میں نئے الیکشن ہو جائیں گے، تاہم وہ حکومت چند بڑے کام کرجائے گی۔

نئی حکومت الیکٹورل ریفارمز کرے گی اور اس میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کرے گی۔ ای وی ایم کا مسئلہ حل کرے گی، ججز کی تقرری کا طریقہ کار طے کرے گی، نیب ختم کرے گی، اٹھارہویں ترمیم میں اصلاحات کرے گی اور معیشت کے چند اصول طے کرے گی۔ یہ کام جوں ہی مکمل ہو جائیں گے، وزیر اعظم اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کا اعلان کر دے گا۔ لیکن اگر یہ نہیں ہوتا اور یہ حکومت سال سوا سال تک چلتی رہتی ہے تو پھر مسلم لیگ ن کو بہت نقصان ہو گا اور عوام یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ عمران خان اچھا تھا، وہ روٹی نہیں دیتا تھا لیکن روزانہ اپنے بیانات سے ہمارے لیے انٹرٹینمنٹ کا بندوبست تو کر دیتا تھا۔

دوسرا یہ حکومت اگر طویل ہو گئی تو چوہدری برادران اور آصف زرداری ن لیگ کو پنجاب سے فارغ کر دیں گے اور میاں صاحبان یہ حقیقت جانتے ہیں لہٰذا حکومت کو لمبا کھینچنے کا رسک وہ کبھی نہیں لیں گے۔ وہ اسی سال اسمبلیاں توڑ کر نیا الیکشن کرا دیں گے۔

اپنے سوال کے دوسرے حصے کا جواب دیتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ نئی حکومت عوام کو ریلیف لازمی دے گی۔ مہنگائی بھی کم ہو گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو گا، اسٹاک ایکسچینج کو بھی بہتر بنائے گی، سی پیک کی اسپیڈ بھی بڑھائے گی اور یہ ڈالر کو بھی دس پندرہ روپے نیچے لے آئے گی،

یہ کام موجودہ حالات میں حقیقتاً مشکل ہیں لیکن حکومت کو یہ بہرحال کرنا پڑیں گے۔ حکومت اگر یہ نہیں کرتی تو پھر عوام حکومت کی مرمت کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرے گی۔ لوگ دس پندرہ دنوں میں بولنا شروع کر دیں گے اور آج کی اپوزیشن اور فیوچر کی حکومت یہ افورڈ نہیں کر سکے گی لہٰذا وزارت خزانہ ن لیگ اپنے پاس رکھے گی اور یہ جیسے تیسے گر پڑ کر عوام کو ریلیف ضرور دے گی۔

بقول جاوید چوہدری تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نیا عمرانی معاہدہ کرے گی اور اس سے مل کر نئی حدود طے کرے گی۔ ان کے خیال میں ایسا ضرور ہوگا۔ نئی حکومت فوج کو سپیس دے گی بھی اور اس سے اپنے لیے اسپیس لے گی بھی تاکہ مستقبل میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔ حکومت فوج کے ساتھ مل کر آرمی چیف کی تقرری کا لائحہ عمل بھی طے کرے گی اور یہ فیصلہ ہو جائے گا مستقبل میں جو بھی جنرل سنیارٹی میں پہلے نمبر پر ہو گا،

 

وہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی طرح ایک خودکار نظام کے تحت چپ چاپ چیف بن جائے گا اور وہ اگر کسی مجبوری کے تحت یہ ذمے داری نہ لینا چاہے تو نمبر ٹو آٹومیٹک اس کی پوزیشن پر آ جائے گا۔ اگر یہ بندوبست ہو گیا تو یہ ملک کے لیے نہایت اچھا ہو گا اور پاکستان واقعی چل پڑے گا۔

اس کے بعد جاوید چوہدری سب سے اہم اور بنیادی سوال کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ شہباز شریف کیسے وزیراعظم ثابت ہوں گے؟ انکا کہنا ہے کہ پنجاب میں اچھی پرفارمنس کی وجہ سے شہباز شریف کا ایک پبلک امیج بن چکا ہے، لوگ انھیں پرفارمر کی حیثیت سے جانتے ہیں لہٰذا آج کے شہباز شریف کا مقابلہ ماضی کے شہباز شریف سے ہوگا، انھیں اپنے پچھلے ریکارڈ خود توڑنے پڑیں گے اور اتحادی حکومتوں میں یہ کام آسان نہیں ہوتا لہٰذا اگر شہباز وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو ان کا مقابلہ بھی خود کے ساتھ ہی ہو گا اور انکے لیے یہ میچ جیتنا لازمی ہو گا۔

What if Imran used the last card? Urdu News

Back to top button