مریم کی شان میں گستاخی: لیکن بدتمیزی کا رواج تو ن لیگ نے ڈالا

عمران خان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے معروف لکھاری کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے مریم نواز کی شان میں گستاخی کے مرتکب تحریک انصاف کے 26 اراکین پنجاب اسمبلی کو نااہل کروانے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن موصوف شاید بھول گئے کہ اسمبلی میں بدتمیزی اور بد تہذیبی کی روایت خود (ن) لیگ نے ڈالی تھی۔

ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ تحریک انصاف اب ایک زیرِ عتاب جماعت ہو کے رہ گئی ہے۔ عتاب بھی ایسا کہ ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اور تو اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے 26 ارکان کے خلاف سخت ترین  کارروائی کی ٹھانی ہوئی ہے اور ان کی نااہلی کی درخواست الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی ہے۔ ان ممبران کا جرم یہ ہے کہ چیف منسٹر پنجاب ہر دلعزیز مریم نواز اسمبلی میں تقریر کرنے کے لیے اُٹھیں تو ان ممبران نے شور شرابا کرنا شروع کر دیا۔

اب ان اراکین اسمبلی کے خلاف مریم نواز کی خواہش پر نااہلی کی کاروائی شروع کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ یہ جاننا ذرا مشکل ہے کہ ملک صاحب اپنی تسکین کیلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں یا کسی کو خوش کرنے کیلئے۔ ایسے مسائلِ تصوف کے بارے میں حتمی رائے دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایاز امیر کا کہنا ہے کہ ہماری اسمبلیوں میں شور شرا با کوئی نئی بات نہیں۔ ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن کسی سپیکر نے ایسی کارروائی نہیں کی۔ لیکن ملک احمد ہیں کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہی نہیں ہو رہا اور وہ بار بار اس کارروائی کا جواز پیش کر رہے ہیں۔ اُن کے انداز سے تو یوں لگتا ہے کہ برصغیر کی پارلیمانی تاریخ میں کبھی ایسا سنگین جرم سرزد ہوا نہیں اور یہی 26 سرکش اور قابلِ سزا ممبران ہیں جنہوں نے یہ فاش غلطی کی ہے۔

مانا کہ دلعزیز چیف منسٹر صاحبہ کی شان میں ایسی گستاخی‘ ایک سنگین جرم ہے۔ لیکن اس جرم کی پاداش میں اراکین کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن پہنچ جانا کچھ زیادہ ہو گیا لگتا ہے؟ ویسے بھی  الیکشن کمیشن سے انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انصاف کا سابقہ معیار برقرار رہا تو ان 26 ارکان کی خیر نہیں۔ بہرحال یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پارلیمانی کارروائیوں میں بدتمیزی کا رجحان اور تقریروں میں خلل ڈالنے کی روایت کب اور کیسے پیدا ہوئی؟ اگر ناقص حافظے پر تکیہ کیا جائے تو پارلیمانی غل غپاڑے کی اصل موجد ہم سب کی پیاری (ن) لیگ کے علاوہ کوئی اور جماعت نہیں۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا 1988 میں وزیراعظم بننا نہ تو تو مسلم لیگ کے صدر نواز شریف کو ہضم ہوا، نہ ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ کہ سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ کو اور نہ ہی صدر غلام اسحاق خان کو۔

لیکن اچانک ایک فضائی حادثے میں ضیا کے جہنم رسید ہو جانے کے بعد انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو گیا۔ جنرل ضیا نے جونیجو اسمبلی برخاست کرنے کے بعد انتخابات کو التوا میں رکھا ہوا تھا لیکن جب جنرل صاحب گئے تو اُن کی جگہ آنے والے صدر کیلئے فوری الیکشن کروانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی ہم نوا سیاسی قیادت نے لاکھ جتن کیے لیکن قومی اسمبلی میں بے نظیر بھٹو کو اکثریت حاصل ہو گئی اور وہ وزیراعظم بن گئیں۔ پنجاب میں بھی زیادہ سیٹیں پیپلز پارٹی کی تھیں لیکن اُسے اکثریت حاصل نہیں تھی۔ آزاد ارکان کی تعداد 32 تھی جنہیں نواز شریف اُنہیں اپنی طرف کرنے میں کامیاب ہوگے۔ پیچھے ظاہر ہے اسٹیبلشمنٹ کا زور تھا اور یوں وہ وزیراعلیٰ پنجاب پھر سے منتخب ہو گئے۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ دوسری جانب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئیں لیکن صدر اور فوج اُن کے گرد جتنا گھیرا تنگ کر سکتے تھے اُنہوں نے کیا۔ پنجاب میں میاں صاحب اور اُن کی حکومت نے پی پی پی کے خلاف باقاعدہ مورچے سنبھال لیے۔ حسین حقانی نے میاں صاحب کے خاص مشیروں میں تھے۔ اُنہوں نے اطلاعات کا پُرخار کام سنبھالا ہوا تھا۔ چنانچہ کون سا طوفانِ بدتمیزی تھا جو پیپلز پارٹی کے خلاف کھڑا نہ کیا گیا ۔ زہر پھیلانے کے ایسے ریکارڈ قائم کیے گئے جنکی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اس قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کے ممبران اسمبلی نے وہ گند کیا جس کا ملک احمد خان سوچ بھی نہیں سکتے۔ یوں سمجھیے کہ اُنہوں نے بے نظیر بھٹو کا جینا حرام کر دیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ بے نظیر بھٹو میں بڑا حوصلہ اور ٹھہراؤ تھا۔ وہ قومی اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑی ہوتیں تو احساس ہوتا کہ کم عمری کے باوجود اُن کی زبان میں کتنا اثر ہے۔

اپنی پہلی مدتِ اقتدار میں تو بے نظیر بھٹو (ن) لیگ کے حوالے سے بے بس ہی رہیں۔ لیکن جب دوبارہ 1993 میں اقتدار میں آئیں تو (ن) لیگ کا علاج نئے انداز سے کیا گیا۔ پنجاب کے گورنر چوہدری الطاف حسین تھے۔ پہلا ہاتھ قبلہ شیخ رشید احمد پر ڈالا گیا جن کی زبان بہت چلتی تھی۔ اُن پر کلاشنکوف ڈال کر قید کاٹنے کے لیے بہاولپور جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ جیل میں بیٹھے سوانح عمری لکھنے لگے اور جیل سے باہر آئے تو اُن کے تیور خاصے بدلے ہوئے تھے۔

اسی طرح نون لیگ کچھ راکین پنجاب اسمبلی بے نظیر صاحبہ کے حوالے سے غلیظ گفتگو کرتے تھے چنانچہ ان کا علاج یوں کیا گیا کہ پیپلزپارٹی کے منتخب اراکین نے ان کی کھل کر ٹھکائی کی جس کے بعد ان کے بھی تیور درست ہو گئے۔ تاہم کسی رکن اسمبلی کو نااہل کروانے کی واردات نہیں ڈالی گئی۔ ہاں اگر کبھی اراکین اسمبلی کو نااہل کرانے کی نوبت آئی تو وہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں فارغ ہوئے جن میں معروف ٹی وی اینکر طارق عزیز مرحوم بھی شامل تھے۔ ان سب لوگوں کا تعلق مسلم لیگ نون سے تھا اور انہوں نے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کیا تھا۔ اس کی نظیر پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لہذا سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سے گزارش ہے کہ ہوش کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور وہ کود جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسے کاٹنے کی غلطی نہ کریں۔

Back to top button