خفیہ ایجنسی کی عمران کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کرنے کی تجویز

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے انکشاف کیا ہے کہ خفیہ اداروں نے پنجاب حکومت کو ایک رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ روز روز کی بک بک سے بچنے اور امن وامان کی صورتحال کنٹرول میں رکھنے کے لیے عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کسی دوسری جیل منتقل کر دیا جائے۔ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ساتھ ہر ہفتے دو دن ہونے والی فیملی، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں کے دوران اڈیالہ جیل اور اس کے اطراف امن وامان کی صورت حال شدید متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث بانی پی ٹی آئی کو کسی اور جیل میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی عمران خان کی منتقلی کی تجویز زیر غور ہونے کی تصدیق کی تھی، جبکہ وزیر اعظم کے ایک اور مشیر اختیار ولی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو دوسری جیل منتقل کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی ایسی خبریں اڑ چکی ہیں، تاہم تب اڈیالہ جیل کے حکام نے ان کی سختی سے تردید کی تھی۔ قانونی ماہرین نے بھی عمران کو کسی دوسری جیل منتقل کرنے کو ناقابل عمل قرار دیا تھا چونکہ ان کے خلاف تمام کیسز اسلام آباد ہائی کورٹ میں چل رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان گزشتہ دو برس سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں کیونکہ انھیں توشہ خانہ کرپشن کیس اور 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں دس دس سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ خفیہ اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران سے ملاقات کے دن اڈیالہ روڈ پر کاروباری سرگرمیاں اور بچوں کی تعلیمی مصروفیات شدید متاثر ہوتی ہیں، جس کے باعث مقامی دکاندار اور والدین مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے ارد گرد واقع دیہات کے سینکڑوں طلبہ روزانہ راولپنڈی شہر کے دیگر علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں، لیکن سکیورٹی اقدامات کے باعث اُن کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان سے ملاقات کے روز اڈیالہ روڈ، جو راولپنڈی سے جیل کو ملانے والی واحد مرکزی شاہراہ ہے، تین کلومیٹر تک بند کر دی جاتی ہے، جبکہ قریبی دکانیں سیل کر دی جاتی ہیں۔ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق اس شاہراہ کی بندش سے دکانداروں کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی طرف جانے والے درجنوں طلبہ و طالبات رات گئے گھر پہنچتے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے صورتِ حال خراب رہنے کے باعث علاقہ مکین بارہا اپنے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور مسئلے کے مستقل حل پر زور دے رہے ہیں۔
خفیہ اداروں کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ملاقاتیں معطل ہیں جس کے باعث خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنے دیے۔ ان احتجاجی دھرنوں نے امن و امان کے مسائل کو مزید ابتر کر دیا۔ رواں ہفتے منگل کے روز بھی عمران خان کی بہنوں کی ان سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی، جس کے بعد علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نے کارکنوں کے ساتھ فیکٹری ناکہ پر دھرنا دیا جو رات ڈھائی بجے تک جاری رہا۔ پولیس نے انصافی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جس پر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق منگل کے روز عمران خان کی فیملی اور جمعرات کے روز وکلا و پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کا شیڈول طے ہے۔
فیض حمید کی سزا قیدی نمبر 804 کے لیے واضح پیغام کیوں ہے؟
پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار کے مطابق عمران خان کو دوسری جیل منتقل کرنے سے متعلق اڈیالہ جیل انتظامیہ سے بھی مشاورت کی جائے گی تاہم حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔ اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان جس کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں وہ نیب کا مقدمہ ہے، جس کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کسی سزا یافتہ کی اپیل پر اعلیٰ عدالت میں فیصلہ نہیں ہو جاتا، اسے اسی علاقے کی جیل میں رکھا جاتا ہے جہاں کی عدالت اپیل کی سماعت کر رہی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی کی رضامندی جیل منتقلی کے لیے ضروری نہیں۔ ادھر عمران خان کے وکیل علی بخاری نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عمران خان کو کسی دوسری جیل منتقل کیا تو پی ٹی آئی سخت ردعمل دے گی اور ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ عمومی طور پر ملزم کو اسی جیل میں رکھا جاتا ہے جہاں کی عدالت نے سزا سنائی ہو۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو نیب مقدمات میں سزا کے بعد اڈیالہ کے بجائے کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
