خفیہ ایجنسی کا افسر تگڑا نکلا، پولیس والے پر فرد جرم

ایک خفیہ ایجنسی کے افسر کو اسلام آباد کے مساج سینٹر سے گرفتار کرنے کی پاداش میں جاسوسی کرنے اور ملکی راز فروخت کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والے پولیس کے اے ایس آئی ظہور احمد پر بالآخر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ 3 مارچ کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے ظہور کے خلاف درج آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی سماعت کی۔ ملزم ظہور اپنے وکیل ایڈووکیٹ عمران فیروز ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا جس کے بعد
عدالت نے ظہور احمد پر 9 مارچ کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ پولیس اہلکار اے ایس آئی ظہور احمد کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ کیس کا اندراج 13 دسمبر 2021 کو کیا گیا تھا جبکہ 14 دسمبر کو ملزم کو پہلی بار ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے انسداد دہشت گردی وِنگ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گولڑہ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اے ایس آئی کو خفیہ دستاویزات یا معلومات ’غیر ملکی سفیر/ایجنٹ‘ کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تاہم عدالت نے ملزم کو 25 جنوری 2022 کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہا کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب اسے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ظہور احمد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس غریب کا اصل قصور ایک خفیہ ایجنسی کے طاقتور اہلکار سے پنگا لینا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ ظہور نے اسلام آباد کے ایک مساج سینٹر پر چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے ایک افسر نوید خان کو اسکے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔ چنانچہ انتقام لینے کی خاطر نوید خان نے ظہور کو ایک جھوٹے کیس میں گرفتار کروادیا۔
خیال رہے کہ ظہور احمد نے اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد ثانیہ حمید کے ہمراہ عوامی شکایت پر سیکٹر ای-الیون تھری میں جن مساج سنٹرز پر چھاپے مارے تھے ان میں سن شائن اور روز ایگزیکٹو نامی مساج سینٹر شامل تھے۔
پولیس نے وہاں سے 12 مرد اور 12 خواتین گرفتار کی تھیں جن میں ایک نوید خان تھا جس کو خفیہ ایجنسی کا اہلکار بتایا جاتا ہے۔ ظہور کی گرفتاری کے بعد انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری نے الزام عائد کیا تھا کہ ظہور کو صرف اس لئے مقدمے میں پھنسایا گیا کیونکہ اس نے ایک مساج پارلر پر چھاپے کے دوران وہاں ایک اہم ادارے کے افسر کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ ایمان مزاری نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ساری کاروائی کا مقصد پولیس کو سبق سکھانا تھا۔ قوم کو ان سوالات کے جواب چاہیں کہ ایک معمولی اے ایس آئی کو قومی رازوں تک رسائی کیسے حاصل ہوئی جن کے بیچنے کا الزام لگایا جا رہا ہے؟ ایمان نے کہا کہ اگر اس کے پاس ایسے اہم قومی راز تھے تو کیا وہ اتنا بیوقوف تھا کہ انہیں صرف پچاس ہزار روپے کے عوض بیچتا؟
خیال رہے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے 13 دسمبر 2021 کو اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظہور پر سفارتکار کو ملکی راز فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اس سے پہلے سوشل میڈیا پر یہ سوالات بھی اٹھائے گئے تھے کہ وہ غیر ملکی سفارتکار کون تھے اور ان کا تعلق کس ملک سے تھا؟ جن کو اے ایس آئی ظہور نے ملکی راز بیچے۔ تاہم ایف آئی اے نے اس سفارتکار کی شناخت ظاہر نہیں کی جس کو غیر ملکی راز بیچے گئے تھے، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ راز خریدنے والے سفارت کار کے خلاف کیا ایکشن ہوا۔
اس سے پہلے عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو موقع پر رنگے ہاتھوں اہم ملکی راز فروخت کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، اور ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے۔ عدالتی استفسار پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ویڈیو کا فرانزیک نہیں کروایا گیا لیکن ملزم سے گرفتاری کے وقت 50 ہزار روپے برآمد ہوئے جس کی وضاحت دینے میں وہ ناکام ہوگیا تھا۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیاکہ کوئی ایسا ثبوت ہے کہ پیسے کہاں اور کس اے ٹی ایم سے نکالے گئے تھے، جس پر پراسیکیوٹر نے ثبوت کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے کوئی معلومات بذریعہ میسج شئیر نہیں کی، تاہم تمام معلومات ڈیوائس کے ذریعے شئیر ہوئی۔
ملزم کے وکیل عمران فیروز ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ گرفتاری کی ویڈیو میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں ہے، اگر گاڑی کسی غیر ملکی کی ہے تو ڈپلومیٹک انکلیو کے میں گیٹ کی ویڈیو یا کاروں کے آنے جانے کا اندراج کیوں موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس غیر ملکی سفارت کار کو حساس دستاویزات بیچنے کا ذکر کیا جا رہا اسے تو ملک چھوڑے بھی ایک سال سے زائد ہو چکا ہے۔ ان کہنا تھا کہ ملزم کے اصرار کے باوجود بھی سی ڈی آر اور سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کی ریکارڈنگ منظر عام پر نہیں لائی جا رہی جبکہ جس لیٹر کا ذکر کیا جا رہا یہ عدالت میں موجود ہر پولیس اہلکار کے پاس ہے کیونکہ اس لیٹر پر سیکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دینا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ تاہم عدالت نے یہ تمام حقائق سننے کے باوجود 9 مارچ کو ملزم ظہور پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم سنا دیا۔
Intelligence officer turns out strong indicts policeman video
