وزیرداخلہ کی مدارس بل پرمولانا فضل رحیم سے اہم ملاقات

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےجامعہ اشرفیہ میں وفاق المدارس کےسرپرست اعلیٰ مولانا فضل رحیم اشرفی سے اہم ملاقات کی۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے مولانا فضل رحیم اشرفی کی خیریت دریافت کی اور ان کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےمولانا فضل رحیم اشرفی سےدینی مدارس کےبل کےحوالے سےتفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مولانا فضل رحیم نےکہا کہ مدارس کےمعاملات پرسیاست نہیں ہونی چاہیے، مدارس کےایشو پر ہم اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
مولانا فضل رحیم نے کہا کہ پنجاب میں بھی وفاق کی طرزپرمدارس محکمہ تعلیم کے ماتحت ہونےچاہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نےمدارس کےحوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کی یقین دہانی پر مولانا فضل رحیم کا شکریہ ادا کیا۔
مولانا فضل رحیم اشرفی نے دعا خیر کی۔ ملک کی سلامتی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھی دعا کی گئی۔
واضح رہے کہ سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی۔
خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علما کے مقابلے میں علما کو لایا جارہا ہے، حکومت اس معاملے کو سیاسی اکھاڑا نہ بنائے، اس وقت ہمیں حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں۔
سربراہ جے یوآئی نے کہا کہ اجلاس میں شرکت کرنیوالے علما کو بھی اپنی صف کے لوگوں میں شمار کرتے ہیں،دینی مدارس کےحقوق کی جنگ تمام مدارس اورعلما کے لیے لڑ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ریاست سے تصادم نہیں بلکہ رجسٹریشن چاہتے ہیں، مدارس کےحوالے سے2004 میں بھی قانون سازی ہوئی تھی، 2019 میں ایک نئے نظام کیلئے محض ایک معاہدہ کیا گیا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ الیکشن سےقبل پی ڈی ایم کی حکومت میں تمام پارٹیوں نے بل پراتفاق رائے کیا تھا،بل کی پہلی خواندگی پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا، دوسری خواندگی میں اداروں نےمداخلت کرکے قانون سازی رکوادی،26 ویں آئینی ترمیم کےمرحلےکےدوران بل کی منظوری کےحوالےسےبات کی جس سےتمام اسٹیک ہولڈرز واقف تھے۔
