راہول گاندھی نے سزا کیخلاف اپیل دائر کر دی

بھارت میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی نے ہتک عزت کے مقدمے میں سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائرکردی ۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 52 سالہ راہول گاندھی کوگذشتہ ماہ وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک ریاستی قانون ساز کے دائرکردہ ہتک عزت کے کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔
عدالت نے راہول گاندھی کی 2019 کی تقریر کو وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر لوگوں کی توہین قراردیا تھا۔ تاہم عدالت نے ان کی دوسال قید کی سزا معطل کردی تھی اور اب انھوں نے خود کو مجرم قراردینے کا فیصلہ کالعدم قراردلوانے کے لیے اپیل دائرکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق راہول گاندھی کی قانونی ٹیم کے رکن ہرال پانوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ اپیل کی ابتدائی سماعت 13 اپریل کو ہوگی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ سورت کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قراردیا تھا کہ راہول گاندھی نے مودی کے لقب سے سبھی کو بدنام کیا ہے لیکن ان کے وکیل نے کہا کہ راہول گاندھی اعلیٰ سطح کی بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم مودی اور دونوں تاجروں کا حوالہ دے رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسی بیان پر راہول گاندھی کے خلاف ہتک عزت کے دو اور کیس دائر کیے گئے ہیں اور وہ 12 اپریل کو مشرقی شہر پٹنہ میں ان میں سے ایک مقدمے میں عدالت میں پیش ہوں گے۔
واضح رہے کہ راہول گاندھی حزب اختلاف کی سیاست کے مرکزی رہنما ہیں اور وہ مودی کی بی جے پی کا بنیادی ہدف ہیں
حالانکہ کانگریس پارٹی کے مقابلے میں اگلے عام انتخابات میں بی جے پی کا غلبہ نظر آتا ہے۔
