ایران کا عراق میں امریکی فوجی اڈے پرڈرون حملے کادعویٰ

ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی 19ویں لہر بھی شروع کردی ۔ یہ کارروائیاں اس وقت جاری علاقائی جنگ کے چھٹے روز کی جا رہی ہیں جس نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایرانی فوج نے مغربی شہر خرم آباد کی فضاؤں میں پرواز کرنے والے ایک ہرمیس 900 ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔یہ کارروائی مغربی ایران میں کی گئی۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی عراق کے شہر اربیل میں قائم اس فوجی اڈے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں اڈے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق اربیل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ دنوں میں ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
اربیل کا علاقہ امریکی قیادت میں داعش کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے لیے ایک اہم فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے یہ حالیہ علاقائی تنازع میں متعدد بار حملوں کا ہدف بن چکا ہے۔
