ایران نے آذربائیجان پر ڈرون حملے کی تردید کردی

ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے آذربائیجانی ہم منصب کو فون پر یقین دلایا کہ تہران آذربائیجان کے نخچیوان کے ایکسٹرا کالچر علاقے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث نہیں تھا۔
فون کال کے دوران ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ضروری تحقیقات اور جائزہ لے رہی ہیں اور ایران کی طرف سے کسی بھی قسم کے پروجیکٹائل کا آذربائیجان کی جانب روانہ ہونا درست نہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایسے حملوں میں اسرائیل کا کردار ہوتا ہے تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے اور ایران کے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کو نقصان پہنچایا جائے۔
واضح رہے کہ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ کہ ایران سے داغے گئے کئی ڈرونز آذربائیجان کی سرزمین پر گر گئے ہیں۔2شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایران کا ایک ڈرون نخجوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل عمارت سے ٹکرا گیا جبکہ دوسرا ڈرون شکارآباد گاؤں کے سکول کے قریب گر کر اتر گیا۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’ہم ان ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین سے کیے گئے اور جن سے ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور دو شہری زخمی ہوئے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کی وضاحت کرے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے اقدامات کرے۔
وزارت خارجہ نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا اور کہا کہ آذربائیجان حق رکھتا ہے کہ مناسب ردعمل دے۔
