ایران کو جنگ بندی کیلئے گڑگڑانا پڑا،امریکی وزیر جنگ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کو کامیاب اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کو جنگ بندی کے لیے گڑگڑانا پڑا۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کامیڈیا سے گفتگو میں کہنا تھاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کردی ہے اور امریکا نے ایک فیصلہ کن آپریشن کے ذریعے ایران کو شکست دی۔ امریکا نے اپنی فوجی طاقت کا صرف 10 فیصد استعمال کیا اور ایران کی اسلحہ ساز فیکٹریوں، فضائیہ اور نیوی کو مٹی میں ملادیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سیکڑوں میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کیے گئے جبکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی، عسکری اور انٹیلیجنس قیادت کو بھی ختم کردیا گیا۔
امریکی وزیر جنگ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہیں اور ایران مزید امریکی حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جنگ بندی پر مجبور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب امن کا حقیقی موقع موجود ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے جس کی نگرانی امریکی بحریہ کرے گی۔
ہیگسیتھ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایک بھی میزائل فائر کیا تو امریکی طیارے دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہوں گے جبکہ انہوں نے اس جنگ بندی کو صدر ٹرمپ کی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر امریکی صدور صرف باتیں کرتے رہے جبکہ ٹرمپ نے عملی اقدامات کیے، اور ایران نے ایک سخت سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکا سے ٹکر لینے کا کیا انجام ہوتا ہے۔
دوسری جانب جنرل ڈین کین نے کہا کہ 38 روزہ آپریشن میں امریکا نے شاندار کامیابی حاصل کی اور اس موقع پر امریکی قیادت کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران 13 امریکی فوجیوں کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جبکہ 520 اہلکار ایرانی حملوں میں زخمی ہوئے۔
جنرل کین کے مطابق حالیہ پائلٹ ریسکیو مشن میں 155 طیارے شریک تھے اور اس آپریشن کے دوران دشمن کے علاقے میں داخل ہو کر پائلٹ کو بحفاظت نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریت میں پھنس جانے والے امریکی طیاروں کو خود تباہ کیا گیا تاکہ ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔

Back to top button