ایران نے آبنائے ہومز پر بات چیت سے انکار کر دیا

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے دوران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے سے سختی سے انکار کر دیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی اور اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے، تب تک وہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی مذاکرات نہیں کریں گے۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا  وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں تب تک بات نہیں کریں گے جب تک ان پر جاری حملے ختم نہیں ہو جاتے اور ان کی سلامتی کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے فوجی مدد فراہم کریں، مگر بہت سے ممالک نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔

امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پابندیاں ہٹا دیں

یورپی ممالک، خاص طور پر برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان نے کہا ہے کہ وہ کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے جو اس وقت جنگ کی صورت حال میں ہو۔ اقوام متحدہ اور مختلف ملکوں نے تنازع پر عالمی اختلاف ظاہر کیا ہے اور جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور وہ اسے بند نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ کسی بھی مذاکرات کے لیے تیار نہیں جب تک حملے جاری ہیں۔ ایران نے مزید کہا کہ وہ کھلی گزرگاہ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن صرف ان ملکوں کے لیے جو اس پر حملہ نہیں کر رہے۔

برطانیہ نے ایران جنگ کیلئے امریکا کو اپنے فوج اڈے استعمال کرنیکی اجازت دیدی

یاد رہے کہ یہ تنازع اب متعدد ہفتوں تک جاری ہے اور اس میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران اور اس کی دفاعی افواج نے بھی متعدد جوابی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک مقامات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Back to top button