ایران نے دباؤ اور دھمکی کے نتیجےمیں امریکا سےمذاکرات سے انکار کردیا

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےکہا ہےکہ کسی دباؤ اور دھمکی کے نتیجےمیں امریکا سےمذاکرات نہیں کریں گے۔
عرب میڈیا کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو لکھےگئےخط اور بات چیت کی دعوت سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتےہوئےایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی دباؤ اور دھمکی کےنتیجے میں مذاکرات نہیں کریں گے، چاہے موضوع کوئی بھی ہو۔
رپورٹ کےمطابق اتوار کے روز اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سےمتعلق امریکی خدشات دور کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہوسکتا ہے۔
تاہم اب ایرانی وزیر خارجہ نے دباؤ کے نتیجے میں کسی بھی بات چیت کے امکانات کو مکمل مسترد کردیا ہے۔
شام میں چھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی
واضح رہےکہ امریکی صدر کی جانب سے بات چیت سے متعلق خط کے بعد ایرانی سپریم لیڈر نے بھی گزشتہ دنوں ردعمل دیتے ہوئےکہا تھا کہ بدمعاشی کرنے والےکچھ ممالک مسائل حل کرنے نہیں بلکہ اپنےمطالبات منوانے کے لیے بات چیت پر زور دیتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نےکہا کہ ایران ایسےممالک کے مطالبات قطعی تسلیم نہیں کرے گا اور اپنے میزائل پروگرام کے خاتمے کےمطالبات بھی تسلیم نہیں کرے گا۔
