ایران نے صدر ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ مسترد کردیا

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی بات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کےلیے وقت حاصل کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کےلیے اقدامات کررہے ہیں،علاقائی ممالک کی جانب سے کچھ تجاویز سامنے آئی ہیں تاہم ان تمام تجاویز کا رخ واشنگٹن کی طرف موڑنا چاہیے،ہمارا جواب واضح ہے کہ ہم وہ فریق نہیں جس نے یہ جنگ شروع کی۔
ایرانی میڈیا کےمطابق ایک سینئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نےبھی کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران میں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، سکیورٹی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے بیان کو نفسیاتی جنگ قراردیتے ہوئے کہاکہ ایران کے جوابی حملوں کی دھمکی نے امریکاکو حملے ملتوی کرنے پر مجبور کیا۔
امریکا اور ایران دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں : صدر ٹرمپ
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کی بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے،مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی اچھی اور نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، تعمیری بات چیت پورا ہفتہ جاری رہےگی، امریکی محکمہ جنگ سے کہا ہکہ ایرانی پاور پلانٹس اور انرجی تنصیبات پر ہر قسم کے فوجی حملے پانچ دن کےلیے روک دیں۔
