ایران نے جوہری تنصیباب پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیے

 

 

 

ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم نے اردکان کے قریب یورینیم کے پروسیسنگ پلانٹ پر امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کےمطابق تنظیم کا کہنا ہےکہ یہ حملہ نا صرف پر امن جوہری تنصیبات کے تحفظ کی خلاف ورزی ہےبلکہ ری ایکٹر کے ایندھن کی فراہمی اور جوہری طب کی ترقی کے عمل پر براہ راست حملہ بھی ہے۔

تنظیم کا مؤقف ہےکہ تنصیبات ناصرف توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کررہی تھیں بلکہ یہ ری ایکٹر کے ایندھن کی فراہمی اور جوہری طب کی ترقی میں بھی استعمال ہورہی تھی،حکام کےمطابق اس حملے سے ان شعبوں کو براہ راست نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بیان میں عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سےمطالبہ کیاگیا ہےکہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور ذمہ دار عناصر کےخلاف کارروائی کو یقینی بنائیں۔ایرانی حکام نے اس عزم کا اظہار بھی کیاکہ ملک اپنے سائنسی اور دفاعی پروگرام کو ہرصورت جاری رکھے گا۔

اسرائیل کی امریکا کو جنگ بندی نہ کرنے کی درخواست

دوسری جانب اس حملے کے حوالے سے امریکا یا اسرائیل کی جانب سےکوئی با ضابطہ تصدیق یا رد عمل سامنے نہیں آیا،تاہم تجزیہ کاروں کےمطابق اس طرح کےواقعات مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں اور سفارتی سطح پر نئی پیچیدگیاں پیدا کرسکتے ہیں۔

 

Back to top button