ایران و امریکا میں بات چیت کا امکان، جوہری پروگرام پر اختلافات برقرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے بھاری امریکی پابندیاں ختم کرنے کی درخواست کی ہے، اور وہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بیان کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امن چاہتا ہے، تاہم اپنے دفاعی پروگرامز سے دستبردار ہونے کے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی تصادم کے بعد ایک ممکنہ، مگر نہایت نازک، سفارتی پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ وہ تصادم ہے جس نے پچھلے جوہری مذاکراتی عمل کو متاثر کیا تھا۔

ٹرمپ نے وسط ایشیائی رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران کہا کہ “صاف طور پر ایران پوچھ رہا ہے کہ کیا پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔ ایران پر سخت امریکی پابندیاں ہیں جن سے اس کے لیے صورتحال انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “میں اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیار ہوں، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، لیکن بات چیت کے لیے دروازہ کھلا ہے۔”

ٹرمپ کے یہ تبصرے ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب تہران کئی برسوں سے عالمی پابندیوں کے دباؤ میں ہے، خاص طور پر 2018 میں جب امریکا نے یکطرفہ طور پر بین الاقوامی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور دوبارہ سخت معاشی اقدامات نافذ کیے تھے۔

تہران میں صدر پزشکیان نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایران مکالمے کے لیے تیار ہے، لیکن اپنے بنیادی حقوق — بشمول جوہری پروگرام اور دفاعی میزائل نظام — پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا، “ہم بین الاقوامی فریم ورک میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر کوئی کہے کہ تم (جوہری) سائنس نہیں رکھ سکتے یا اپنے دفاع کے لیے (میزائل) نہیں بنا سکتے، ورنہ تمہیں بمباری کا نشانہ بنایا جائے گا، تو یہ ناقابلِ قبول ہے۔”

ایرانی صدر کے مطابق، “ہم دنیا میں امن و سلامتی چاہتے ہیں، مگر ذلت برداشت نہیں کریں گے۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کرے یا ہمیں اپنی خدمت کے لیے مجبور کرے۔”

یہ بیانات حالیہ اور حساس جنگی صورتحال کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ جون کے وسط میں اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کی، جس سے 12 روزہ جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں میں حصہ لیا۔

ایران نے جوابی کارروائی میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں اپریل سے جاری تہران-واشنگٹن مذاکراتی عمل منقطع ہو گیا۔

جنوری میں دوبارہ اقتدار میں آنے والے ریپبلکن صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو “تباہ” کر دیا ہے۔ ان کے بقول، “ایران کبھی مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ تھا، لیکن اب وہ جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت سے محروم ہے۔” تاہم، حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

امریکا اور مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی کوششوں کا الزام عائد کرتے آئے ہیں، لیکن ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض توانائی کے پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

معاشی دباؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اقوام متحدہ نے ستمبر میں "اسنیپ بیک” میکانزم کے تحت ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں — یہ اقدام برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے اشتراک سے کیا گیا۔ یہ پابندیاں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز سے وابستہ تمام سرگرمیوں پر لاگو ہوتی ہیں۔

صدر پزشکیان نے اس پالیسی کو “دوہرا معیار” قرار دیتے ہوئے کہا، “وہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں اور ہم سے کہتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لیے میزائل نہ رکھو، پھر جب چاہیں ہم پر بمباری کر دیتے ہیں۔”

ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ اپنے دفاعی نظام، بشمول میزائل صلاحیت، پر کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں، کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل دفاع اور روک تھام کے لیے ضروری ہیں، نہ کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے۔

عمان، جو ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان متعدد مذاکراتی ادوار کی میزبانی کر چکا ہے، نے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ بات چیت دوبارہ شروع کریں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک نیا معاہدہ طے کرنا تھا، جس کے تحت ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرتا اور بدلے میں پابندیوں میں نرمی حاصل کرتا۔

جنگ سے قبل تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کے پانچ ادوار ہو چکے تھے۔

Back to top button