ایران جنگ: خلیجی ممالک کو 1990 کے بعد سب سے بڑے معاشی بحران کا خدشہ

ایران‑امریکہ جنگ کے بڑھتے تنازعات نے خطے کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں اور خلیجی ممالک کو 1990 کے بعد بدترین معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز کی بندش دیر تک برقرار رہتی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اہم سمندری گذرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع گیس برآمد ہوتی ہے، اور اگر یہ دو ماہ تک مؤثر طور پر بند رہی تو خلیجی معیشتوں کے مجموعی جی ڈی پی میں 14 فیصد تک کمی کا خطرہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق قطر اور کویت کی معیشتیں توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مجموعی معیشت میں تقریباً 3 سے 5 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مشرق و سطیٰ کشیدگی: اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے اہم ٹیلیفونک رابطہ
ایران جنگ کے اثرات کے تحت خلیجی ممالک میں توانائی پیداواری اور برآمدی سرگرمیوں میں کمی آ رہی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی طویل بندش نہ صرف خطے کی توانائی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتیں صارفین کی قوت خرید گھٹا سکتی ہیں اور عالمی اقتصادی ترقی میں سست روی پیدا کر سکتی ہیں۔
