ایران عارضی جنگ بندی کوقبول نہیں کرےگا، مسعود پزشکیان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کاکہناہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرسکتے۔
ایران نے امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرسکتے۔
ایران نے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی جیسے اقدامات وقتی ہوتے ہیں جس کے دوران فریق خود کو جنگ کے لیے دوبارہ متحرک اور منظم کرلیتا ہے جس سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کے جواب میں دس نکات شامل ہیں جن میں خطے میں جاری تمام تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو جیسے مطالبات شامل ہیں۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ ایران صرف اسی صورت کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب جنگ کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں دوبارہ جنگ کا راستہ مکمل طور پر بند کردیا جائے۔
