پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر امریکا کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل

ایف بی آئی نے پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کو اپنی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ایران کے تین اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکاروں کی شناخت کی ہے، جن پر سابق امریکی ایجنٹ باب لیونسن کی گمشدگی اور تہران کی مبینہ شمولیت کو چھپانے کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم جنہیں احمد امیرینیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ماضی میں ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس و سلامتی (MOIS) کے آپریشنز یونٹ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اپنے اس کردار میں انہوں نے یورپ میں سرگرم ایرانی ایجنٹوں کی نگرانی کی۔ وہ اس وقت اسلام آباد میں ایران کے اعلیٰ ترین سفارتی نمائندے کے طور پر تعینات ہیں۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ رضا امیری مقدم پر شبہ ہے کہ انہوں نے اس کارروائی کی براہ راست نگرانی کی جس کے نتیجے میں باب لیونسن کو اغوا کیا گیا، اور بعد ازاں انہوں نے اس واقعے کو چھپانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ باب لیونسن 8 مارچ 2007 کو ایران کے کِش جزیرے پر پہنچے تھے اور اگلے روز لاپتا ہو گئے تھے۔

ایف بی آئی کے مطابق، یہ نئی معلومات اس جاری تفتیش کا حصہ ہیں جس میں ان ایرانی اہلکاروں کی شناخت کی جارہی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اغوا میں ملوث ہو کر شواہد چھپانے کی کوشش کی۔

دیگر دو ایرانی افسران میں تقی دانشور (المعروف سید تقی قائمی) اور غلام حسین محمد نیا شامل ہیں۔ تقی دانشور MOIS کے ایک سینئر کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر ہیں جنہوں نے اس وقت مبینہ طور پر ایک اور ایرانی ایجنٹ محمد بصیری (المعروف ثنائی) کی نگرانی کی جب لیونسن لاپتا ہوئے۔

غلام حسین محمد نیا MOIS کے ایک سینئر نائب ہیں جنہوں نے 2016 میں البانیا میں ایران کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، تاہم دسمبر 2018 میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں البانیا نے انہیں ملک بدر کر دیا تھا۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ محمد نیا نے اس کوشش کی قیادت کی کہ لیونسن کے اغوا کا الزام پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح گروہ پر ڈال دیا جائے۔

ایف بی آئی واشنگٹن فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیون جینسن کے مطابق، "یہ تینوں ایرانی انٹیلی جنس افسران اُن افراد میں شامل ہیں جنہوں نے باب لیونسن کے اغوا اور ایرانی حکومت کی طرف سے بعد میں کی گئی پردہ پوشی کی کارروائیوں میں مبینہ کردار ادا کیا۔ باب نے ممکنہ طور پر اپنی زندگی کے آخری دن قید میں گزارے، اپنے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھیوں سے دُور۔”

باب لیونسن کی قید میں لی گئی تصاویر اور ایک ویڈیو 2010 اور 2011 میں منظر عام پر آئیں، لیکن اس کے بعد ان کی کوئی قابلِ تصدیق اطلاع سامنے نہیں آئی۔ مارچ 2025 میں امریکی محکمہ خزانہ نے امیری مقدم اور دیگر افراد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ایف بی آئی کے مطابق تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور دیگر ایرانی اہلکاروں کی شناخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستانی حکام کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوا، تاہم امیری مقدم کی بطور سفیر تعیناتی کے باعث اس معاملے کا براہ راست تعلق اب اسلام آباد سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔

Back to top button