ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے شہر دیمونا اور عراد میں تباہی مچا دی

 ایران نے نطنز میں واقع جوہری تنصیبات پر اسرائیل اور امریکہ کے مبینہ حملوں کے بعد ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل شہر دیمونا اور عراد میں بیلسٹک میزائل داغ دیئے جس کے نتیجے میں 6 افراد کے ہلاک اور 100 سے زائد کے زخمی ہونے گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے داغا گیا میزائل جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں آ کر گرا، جہاں ایک حساس جوہری تحقیقاتی مرکز موجود ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی طبی حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 10 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جو شدید زخمی ہونے کے باوجود ہوش میں بتایا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ میزائل براہِ راست ایک عمارت سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ آس پاس کا علاقہ بھی تباہی کا منظر پیش کرنے لگا۔ یہ واقعہ صحرائے نیگیو میں پیش آیا جہاں دیمونا کی اہم تنصیب واقع ہے۔

اس کے بعد ایران نے آپریشن "وعدہ صادق 4” کے 72ویں مرحلے کے دوران اسرائیل کے جنوبی شہر عراد کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ حملہ غیر معمولی شدت کا حامل تھا، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

جنگ ہم پر مسلط کی گئی، دفاع جاری رکھیں گے،ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیلی حکام نے حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زخمی ہونے والے تمام افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد 71 تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے کم از کم 10 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

عالمی سطح پر خیال کیا جاتا ہے کہ دیمونا میں موجود یہ تنصیب مشرقِ وسطیٰ کے ممکنہ غیر اعلانیہ جوہری ذخیرے سے جڑی ہو سکتی ہے، تاہم اسرائیل نے ہمیشہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے غیر واضح پالیسی اپنائے رکھی ہے۔

امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق مختلف مقامات پر ریسکیو کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ ایک رہائشی عمارت میں لگنے والی آگ کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کا ایران کے اہم ترین جوہری مرکز نطنز پر حملہ

پیرامیڈک کرمل کوہن کے مطابق جائے وقوعہ پر ہر طرف ملبہ، تباہی اور افراتفری کا عالم تھا۔

اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں ایک تیز رفتار شے کو آسمان سے زمین کی طرف گرتے اور زور دار دھماکے کے ساتھ شہر سے ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پولیس نے ایک عمارت کی دیوار میں پڑنے والے بڑے شگاف کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ حملہ بظاہر نطنز میں ایران کی جوہری تنصیب پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

Back to top button