پاکستان کا ایران سے باہمی تجارت کو 8 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم ہاؤس میں اتوار کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے اعزاز میں ایک باوقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے مہمان صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔
ایرانی صدر نے وزیراعظم ہاؤس میں یادگاری پودا بھی لگایا، جس کے بعد وزرائے اعظم اور صدور نے ایک دوسرے کی کابینہ کے اراکین سے تعارف کرایا۔
استقبالیہ تقریب کے بعد پاک-ایران تجارتی وفود کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں باہمی تجارت کو سالانہ 8 ارب ڈالر تک لے جانے کے روڈمیپ پر اتفاق کیا گیا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال اور ایرانی وزیر برائے صنعت و تجارت محمد اتابک کے درمیان طے پایا، جسے وزارت تجارت نے ’’اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا نیا مرحلہ‘‘ قرار دیا ہے۔
دونوں فریقوں نے تجارت میں رکاوٹیں ختم کرنے، ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے، اور اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کرنے پر زور دیا۔ جام کمال نے زور دیا کہ مارکیٹ رسائی، تجارتی وفود اور ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنا کر پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 8 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ چیمبرز آف کامرس پر مشتمل مخصوص تجارتی وفود ترتیب دیے جائیں تاکہ ترجیحی شعبوں میں عملی تعاون بڑھایا جا سکے۔ اس موقع پر محمد اتابک نے پاکستانی حکومت کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے صنعتکار باہمی تجارت کے لیے تیار ہیں، اب صرف سہولتی نظام کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال کی تجویز دی اور کہا کہ پاکستان اور ایران کو اپنی جغرافیائی قربت کا عملی فائدہ اٹھانا چاہیے، جیسا کہ آسیان ممالک نے کیا۔
ملاقات میں زراعت، لائیوسٹاک، توانائی، سروسز اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے بی ٹو بی دنوں، مشترکہ اقتصادی کمیشن (JEC) اور شعبہ وار تبادلوں کے ذریعے تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
مزید برآں، پاک-ایران تعلقات کے انسانی اور ثقافتی پہلوؤں پر بھی بات ہوئی، اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی و لسانی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر کا یہ پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جہاں وہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ لاہور اور اسلام آباد کے اہم سیاسی و معاشی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ لاہور آمد پر سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کا استقبال کیا، جبکہ مزار اقبال پر حاضری بھی دی گئی۔
اسلام آباد پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایئرپورٹ پر معزز مہمان کا استقبال کیا۔ ایرانی وفد کو ریڈ کارپٹ استقبال دیا گیا اور 21 توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔ ان کے ساتھ آنے والے وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اہم شخصیات شامل تھیں۔
