ایران کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکہ اور اسرائیل برے پھنس گئے

 

 

 

معروف تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ اب پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو چکی ہے کیونکہ مسلسل بمباری اور دھمکیوں کے باوجود ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ ایسے میں صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نیتن یاہو ایک بڑی مشکل صورت حال میں گھر گئے ہیں۔

 

معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے سیاسی تجزیے میں زاہد حسین کا کہنا ہے کہ شدید فضائی حملوں کے باعث ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن اس سب کے باوجود ایران کی مزاحمت غیر متوقع حد تک سخت ثابت ہوئی ہے۔ امریکی صدر کی یہ امید کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران میں حکومت تبدیل ہو جائے گی، پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے اپنے مقتول سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کرنا تسلسل اور مزاحمت کی علامت ہے۔

 

زاہد حسین کہتے ہیں کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایسا شخص جس کے خاندان کے کئی افراد امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہوں، وہ امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے سپریم لیڈر کی تقرری کے بعد تہران اور دیگر ایرانی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جاری بمباری کے باوجود عوام نے ریلیاں نکال کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ عوامی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی معاشرہ شدید دباؤ کے باوجود متحد دکھائی دے رہا ہے۔

 

زاہد حسین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تہران کے قریب ایک بڑے تیل کے ذخیرے پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے کے بعد کئی دن تک آگ بھڑکتی رہی جس سے ماحولیات کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ زاہد کہتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی مزاحمتی صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، لیکن تہران واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین وہ خود کرے گا۔

 

زاہد حسین کہتے ہیں کہ اگر امریکہ اس جنگ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے کسی فیصلے کی سیاسی اور معاشی قیمت بہت زیادہ ہوگی اور خلیجی ممالک اس کے اثرات براہ راست برداشت کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خطے میں بعض تیل اور گیس کی تنصیبات بند ہو چکی ہیں جبکہ سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس صورت حال نے خلیجی ریاستوں کے لیے اپنے علاقوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

 

زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس جنگ کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے جس سے عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

زاہد کے مطابق امریکی سیاسی حلقوں میں اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سمیت بعض رہنما ایران کے خلاف جنگ کو تہذیبی یا مذہبی تصادم قرار دے رہے ہیں جو اس جنگ کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں قائم ہونے والے بورڈ آف پیس نامی فورم کی ساکھ بھی اس جنگ کے بعد سوالات کی زد میں آ گئی ہے کیونکہ فروری میں واشنگٹن میں اس فورم کے اجلاس کے چند ہی دن بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائی شروع کر دی تھی۔ اس صورت حال نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ یہ فورم دراصل امریکی عالمی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایرانی مزاحمت نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ذہنی مریض بنا دیا؟

زاہد حسین کے مطابق پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ حالیہ عرصے میں اسلام آباد نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ اب خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ خطے میں پھیلتی ہوئی یہ جنگ پاکستان کو بھی براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی خارجہ اور سلامتی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس بڑھتے ہوئے علاقائی تنازع میں غیر ضروری طور پر شامل ہونے سے بچ سکے۔

 

Back to top button