ایرانی پاسداران انقلاب کا تل ابیب پر خیبر شکن میزائلوں سے حملے کا دعویٰ

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کلسٹر بموں سے لیس طاقتور خیبر شکن / خرمشہر‑4 بیلسٹک میزائلوں سے تل ابیب پر جوابی حملہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی میڈیا اور روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا ہے ،اور اس کے ساتھ ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائل بھی اسرائیل کی فضاؤں میں چھوڑے گئے ہیں۔

ایران کے دعوے کے مطابق میزائل حملے میں تل ابیب، بن گوریون ایئرپورٹ اور اہم عسکری مقامات نشانہ بنائے گئے۔ تاہم اسرائیلی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر میزائل دفاعی نظام کے ذریعے روک دیئے گئے اور ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کہ اہم تنصیبات پر کیا اثر ہوا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کے وقت اسرائیلی انتظامیہ نے تل ابیب میں سائرن اور کیمرے بند کر رکھے تھے، جس کی وجہ سے شہریوں کو میزائلوں کے داخلے کے منظر کا براہِ راست مشاہدہ نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ روسی اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ میزائل حملے کے دوران شہر میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، مگر حتمی نقصان کے بارے میں تصدیق نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں شدت پکڑتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بڑھی ہوئی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ اِس میں دونوں جانب سے میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کی لہر شامل رہی ہے۔

Back to top button