ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا شہدا کے خون کا بدلا لینے کا دو ٹوک اعلان

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہدا کی ہلاکت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق علی لاریجانی کی قربانی ایرانی وقار اور قومی شعور کی علامت بن چکی ہے اور اس سے صہیونی قوتوں کے خلاف عزم میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے خون کا حساب لیا جائے گا۔

بیان کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔

دوسری جانب ایران نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملے کیے، جبکہ بغداد میں ایئرپورٹ کے قریب واقع امریکی سفارتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ان پیش رفتوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علی لاریجانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک اہم اور بااثر شخصیت قرار دیا، جنہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ دیگر ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے نزدیک جائز اہداف ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی کارروائیاں صرف امریکی تنصیبات تک محدود ہیں۔

Back to top button