کیا پاکستان اور افغانستان میں بڑی جنگ چھڑنے والی ہے؟

 

 

 

کابل اور قندھار پر پاکستانی فضائی حملوں اور سرحدی جھڑیوں  نے خطے کی سیاست اور سکیورٹی منظرنامے کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خطہ کسی نئی جنگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ افغان دارالحکومت اور طالبان قیادت کے مضبوط گڑھ قندھار کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔ اسلام آباد ان دفاعی کارروائیوں کو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا جواب جبکہ کابل اسے کھلی جارحیت قرار دے رہا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق پاک افغان کشیدگی اب محض سخت بیانات اور سفارتی تناؤ تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی میدان میں منتقل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور طالبان حکومت کے جوابی حملوں اور مزاحمت کے اعلانات سے تصادم کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں سوال پیداہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟ کیا فضائی حملوں کے ذریعے پاکستان اپنے سکیورٹی مقاصد حاصل کر پائے گا، یا یہ پیش رفت دونوں ممالک کو ایک ایسے طویل اور پیچیدہ تصادم کی طرف لے جائے گی جس کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے؟

 

دفاعی ماہرین کے مطابق پاک افغان حالیہ کشیدگی ماضی کی جھڑپوں سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ اگر فوری طور پر سفارتی راستہ نہ نکالا گیا تو یہ صورتحال محدود فوجی کارروائیوں سے نکل کر ایک وسیع اور غیر متوقع جنگی مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، تاہم اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان پہلے سے معاشی اور انسانی بحران کا شکار افغان عوام اور عدم استحکام سے دوچار خطے کو بھگتنا پڑے گا۔

مبصرین کے بقول پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں سرپرستی اور انھیں افغانستان میں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہوئے سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں شرپسندانہ اور دہشتگردانہ حملوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے اور اپنے دفاع میں ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے فضائی حملے ناگزیر ہیں، جبکہ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی زمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ مبصرین کے مطابق سرحدی جھڑپیں، پرتشدد واقعات، اور سابقہ سفارتی کوششوں میں ناکامی نے دونوں ممالک کے بیچ بداعتمادی اور کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے مسئلہ صرف سرحدی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر سیاسی اور عسکری دائرے میں داخل ہوتا نظر آتا ہے۔

 

 

خارجہ امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ پرتشدد کارروائیاں ماضی کی جھڑپوں کے مقابلے میں تناؤ میں ایک خطرناک اضافہ ہیں۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنی حکمت عملی کا دائرہ صرف ٹی ٹی پی تک محدود رکھنے کی بجائے افغان طالبان کو بھی نشانے پر لے لیا ہے، جبکہ افغان طالبان اس پر پسپائی اختیار کرنے کی بجائے جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ مائیکل کوگلمین خبردار کرتے ہیں کہ پاک افغان جاری کشیدگی کو اگر نہ روکا گیا تو یہ سلسلہ حقیقی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ پاکستان کو کتنا مہنگا پڑے گا؟

بعض دیگر مبصرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے ذریعے افغان طالبان پر وقتی دباؤ تو ڈالا جا سکتا ہے، مگر اس سے سرحد پار دہشتگردی بارے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ افغان قیادت پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اور یہی اختلاف کشیدگی کی جڑ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عسکری کارروائی مسئلے کو مزید الجھا سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سرحدی خلاف ورزی کا تاثر افغانستان کے اندر قوم پرستانہ جذبات کو تقویت دے سکتا ہے، جس سے طالبان کے لیے داخلی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ طالبان حکومت کو داخلی سطح پر چیلنجز درپیش ہیں، لیکن بیرونی حملے افغان معاشرے کو وقتی طور پر متحد بھی کر سکتے ہیں، جس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان طالبان کو ٹی ٹی پی کی مبینہ حمایت پر سزا دینا چاہتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاک افغان کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہو گا، جو پہلے ہی معاشی بدحالی اور عالمی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ  خطے میں پائیدار استحکام عسکری دباؤ یا فضائی حملوں کی بجائے صرف مذاکرات اور سفارتی عمل سے ہی ممکن ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق بیک چینل سفارت کاری، علاقائی ممالک کی ثالثی اور باہمی اعتماد کی بحالی کے بغیر دونوں ممالک میں حالات معمول پر لانا مشکل ہو گا۔ بصورت دیگر سرحدی جھڑپیں، ڈرون حملے اور فضائی کارروائیاں کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر سفارتی چینلز فوری طور پر فعال نہ کیے گئے تو پاک افغان کشیدگی ایک وسیع اور غیر متوقع جنگی مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

 

 

Back to top button