کیا علیمہ خان کپتان سے پارٹی چھیننے کی سازش کر رہی ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ بظاہر ایک دوراہے پر کھڑی تحریک انصاف اس وقت دو سوچوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ یہ جماعت نظریاتی کشمکش کے ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے درست فیصلوں کی منزل بہت دور ہے۔ ہر شخص جو تحریک انصاف کا کسی دور میں حامی رہا ہے اب ابہام کا شکار ہے کیونکہ پارٹی قیادت کا کوئی بھی قدم درست سمت میں نہیں پڑ رہا۔
عمار مسعود اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایک تحریک انصاف کے اندر کئی تحاریک انصاف جنم لے چکی ہیں مگر اس کا اعتراف کوئی نہیں کر رہا۔ اسی لیے پارٹی قیادت کی کسی پالیسی میں کوئی ربط نہیں اور کوئی نعرہ قابل عمل نہیں۔ پارٹی کی کوئی احتجاجی کال کامیاب نہیں ہو رہی اور کوئی لائحہ عمل پائیدار ثابت نہیں ہو رہا۔ لیکن تحریک انصاف اس مقام پر اچانک نہیں پہنچی۔ یہاں تک پہنچنے میں اسے بہت وقت لگا ہے۔ بڑی عمارت کو گرتے اور بڑے جہاز کو ڈوبتے ہوئے وقت لگتا ہے لیکن اب وقت آ چکا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو ایک یک نکاتی فیصلہ درکار ہے۔ اسے موجودہ سیاسی ابہام سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ ان کے سامنے صرف ایک سوال ہے کہ اسکے قائدین آخر کیا چاہتے ہیں؟ عمران خان کی رہائی یا پھر کارکنوں کی ہمدردی، ولولہ اور جوش۔ کہنے والے کہیں گے کہ یہ دونوں ایک ہی باتیں ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے ذرا ماضی میں جھانکنا پڑے گا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ بطور وزیر اعظم اپنے آخری دنوں میں عمران کی شہرت دم توڑ رہی تھی۔ ان کے نعرے بے معنی ہو رہے تھے۔ انکی بیڈ گورننس کا چرچا تھا۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ خان کی شہرت میں تیزی سے کمی آ رہی تھی۔ تحریک عدم اعتماد آئی تو خان کو خیال آیا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ اپنی ناکامی کو کس طرح کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔ بیڈ گورننس کو پس پشت ڈال کر کس طرح ہمدردی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت پہلے خان نے امریکی سازش کا نعرہ لگایا پھر فوج کے خلاف زہر افشانی کرنے لگے۔ کبھی موصوف نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کی بات کی اور کبھی حقیقی آزادی کی صدا بلند کی۔
عمران کو اچھی طرح پتا تھا کہ اینٹی امریکا نعرہ عوامی طور پر مقبول ہے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ نعرہ لگانے سے ان کی وزارت عظمیٰ تو واپس نہیں آئے گی لیکن عوام میں ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملے گا۔ نتیجتاً لوگوں کو اسی خان سے ہمدردی پیدا ہو گئی جو بطور حکمران خود کو ناکام ثابت کر چکا تھا، امریکہ اور فوج مخالف نعرے لگانے سے خان کی شہرت کو پھر سے عروج ملنے لگا اور لوگ ان کی بیڈ گورننس کو بھولنے لگے۔ ان مقبول نعروں کا نتیجہ 2024 کے الیکش کے نتیجے میں یہ نکلا کہ خان کو خوب ووٹ پڑا اور لوگ خوب بے وقوف بنے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ یوں شہرت والے بیانیے کی چاٹ عمران خان کی سیاست کا محور بن گئی۔ عمران کی جماعت نے ہر وہ کام کیا جس سے ان کی رہائی دشوار ہوتی چلی گئی اور شہرت بڑھتی گئی۔ موصوف نے کبھی امریکا کی غلامی سے نجات کا نعرہ لگایا، کبھی فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے جھوٹ بولا، کبھی تقریروں کو اسلامک ٹچ دینے کی کوشش کی گئی، کبھی ایاک نعبدو ایاک نستعین جیسی مقدس قرآنی آیات کا سیاسی استعمال کیا گیا۔ ان سب فنکاریوں کی وجہ سے ان کی شہرت کو تو دوام مل گیا مگر عمران کی رہائی کوسوں دور ہو گئی۔
عمار کے مطابق انہیں حیرت اس بات پر ہے کہ اس دوران خان نے کرپشن کے خلاف ایک بھی نعرہ نہیں لگا حالانکہ وہ اسی نعرے کو بنیاد بنا کر اقتدار میں آئے تھے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ عمران خان خود کرپشن میں ملوث تھے۔ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس اور توشہ خانہ فراڈ نے عمران خان کو انہی سیاست دانوں کی صف میں کھڑا کر دیا جن کے خلاف انہوں نے اپنی سیاست کی۔ جس بنیاد پر عمران لوگوں کو گالی دیتے تھے اسی بنیاد پر ان کو خود گالی پڑنا شروع ہو گئی۔ یہی وجہ تھی کہ اب شہرت کو برقرار رکھنے کے لیے، ورکرز کو گرم جوش رکھنے کے لیے، کارکنوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مختلف حیلے اختیار کیے گئے۔
عمران خان کی ٹانگ پر گولی لگنے سے آنکھ ضائع ہونے تک سب باتیں جھوٹ ثابت ہوئیں۔ امریکا کی سازش سے لیکر محسن نقوی کی سازش تک سب باتیں بہتان ثابت ہوئیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کے بدلے خان کو ہمدردی حاصل ہوتی رہی۔ لوگ شعور کے نام پر بے وقوف بنتے رہے۔ ورکرز دھرنے دیتے رہے اور پولیس سے مار کھاتے رہے۔ خان کی جانب سے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کارکنوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا رہا۔
اس پالیسی کے نتیجے میں اب جو صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ اس میں واضح ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ لوگوں کو عمران خان کی رہائی سے غرض نہیں بلکہ ہمدردی بٹورنے کی خواہش ہے۔ پارٹی کے یہی لوگ عمران کی رہائی کی بات شروع ہوتے ہی اس میں رخنے ڈالنے لگتے ہیں۔ جب بھی مفاہمت کی بات ہونے لگتی ہے، یہ عناصر لڑائی جھگڑے کرنے لگتے ہیں۔ جب بھی مذاکرات کی بات ہونے لگتی ہے، یہ لوگ جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کرنے لگتے ہیں۔ جب بھی ڈائیلاگ کی بات ہونے لگتی ہے، عمران خان کا ٹوئیٹر ریاست پاکستان کے خلاف سر گرم ہو جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں کی جنگ میں شدت آ گئی
عمار مسعود کہتے ہیں کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران کی اپنی بہن مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ ہاں اگر یہ بات ہو کہ عمران کی آنکھ ضائع ہو گئی تو وہ پوری ہمدردی حاصل کریں گی۔ صاف ظاہر ہے وہ عمران کی رہائی نہیں چاہتیں بلکہ اس کے بدلے ہمدردی چاہتی ہیں۔ عمران اور بشریٰ بی بی کے جیل میں جانے سے اب وارث تحریک انصاف کا کوئی کارکن نہیں بلکہ بہنیں بنتی ہیں۔ ان کی چوہدراہٹ تب تک ہے جب تک یہ دونوں جیل میں ہیں۔ اگر عمران اور بشریٰ بی بی جیل سے باہر آتے ہیں تو ان بہنوں کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ علیمہ کی پریس کانفرنس کوئی نہیں سنے گا۔ اور یہ بات علیمہ خان بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں ۔ اسی لیے جب بھی عمران کی رہائی کی بات ہونے لگے، تو پھڈا یہ بہنیں ہی ڈالتی ہیں۔ جب بھی مفاہمت کی بات ہونے لگتی ہے تو خیبر پختونخوا کے کارکنوں کے ذریعے موٹر وے علیمہ خان کے حکم پر بند ہوتی ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ سیاست بہت ظالم چیز ہوتی ہے۔ طاقت اور اقتدار کے اس کھیل میں بھائی بہن سیاسی حریف بن جاتے ہیں۔ قیدی کی رہائی میں رکاوٹ اس کے گھر سے ڈالی جاتی ہے کیونکہ قیدی کے مسلسل قید رہنے کی صورت میں وراثت بہنوں کے نام ہو گی۔ یہ بات لکھ لیجیے کہ رہائی اور شہرت کی اس جنگ میں بہن کا ووٹ شہرت کے حق میں لگتا ہے کیونکہ اس شہرت کی وارث مستقبل میں علیمہ خان کو بننا ہے۔
