کیا حسینہ واجد کو سزا الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے؟

 

بنگلہ دیشی عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے نے ملک کو نئے سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام براہِ راست فروری میں ہونے والے عام انتخابات پر اثر انداز ہو گا کیونکہ عدالتی فیصلے کا بنیادی مقصد عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر کرنا ہے۔

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کے فوراً بعد ملک بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور کئی شہروں میں احتجاج شروع ہو چکا ہے۔ عوامی لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس ماحول میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا، جبکہ شیخ حسینہ کے قریبی حلقوں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر جماعت پر پابندیاں برقرار رہیں تو وہ انتخابی عمل کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
سزائے موت کا یہ فیصلہ بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، کیونکہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں موجود ہیں۔ نئی دہلی نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں رہے گا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ کی ممکنہ حوالگی دونوں ممالک کے لیے ایک مشکل سفارتی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

عدالت کے مطابق شیخ حسینہ پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال طلبہ تحریک کے دوران کریک ڈاؤن کا حکم دیا، جس میں اقوام متحدہ کے مطابق 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ غیر حاضری میں چلنے والے ٹرائل میں عدالت نے انہیں دو الزامات میں سزائے موت اور ایک میں عمر قید سنائی۔ ٹربیونل نے کہا کہ مقدمے کے دوران پیش کیے گئے گواہوں، شواہد اور لیک شدہ آڈیو نے ثابت کیا کہ حکم اعلیٰ سطح پر جاری کیا گیا۔ تاہم حسینہ واجد نے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے متعصبانہ اور سیاسی بنیادوں پر سنایا گیا جھوٹ قرار دیا ہے۔ اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جھوٹ کا پلندہ ہے اور عبوری حکومت کی کوشش ہے کہ عوامی لیگ کو سیاسی میدان سے مٹا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کیس ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف میں بھیجا جائے تو وہ اسے ایک لمحے میں خارج کر دے گی۔

سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ ’’کینگرو کورٹ‘‘ کی کارروائی ہے، جس میں فیصلہ پہلے سے طے تھا، اور انہیں غیر موجودگی میں سزا دے کر سیاسی منظرنامے کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی حکومت کے ’’انسانی حقوق اور ترقی کے ریکارڈ پر فخر ہے‘‘ اور یہ تمام الزامات محض سیاسی انتقام کا حصہ ہیں۔ ادھر فیصلہ سنائے جانے کے بعد سے بنگلہ دیش میں صورتحال کشیدہ ہے۔ ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں سکیورٹی فورسز تعینات ہو چکی ہیں جبکہ احتجاج کے باعث راستے بند کیے جا رہے ہیں۔ عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تشدد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ عوامی لیگ اور اس کی رہنما کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا، اور کیا سزائے موت کا فیصلہ بنگلہ دیش کی سیاست کا رخ مستقل طور پر تبدیل کر دے گا۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد اقتدار سے بے دخلی کے بعد براہِ راست بھارت چلی گئی تھیں جہاں انہیں سیاسی پناہ حاصل ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے بارہا مطالبات کے باوجود بھارت نے انہیں ڈھاکہ کے حوالے نہیں کیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کے لیے یہ سزائے موت علامتی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے ان پر کوئی عملی اثر نہیں پڑے گا، ان کے مطابق الٹا اس فیصلے سے عوامی لیگ کے کارکنوں اور ہمدردوں میں شیخ حسینہ کے لیے ہمدردی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

 

Back to top button