کیا سندھ ہاؤس میں واقعی ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن پر سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ہارس ٹریڈنگ کرنے اور ممبران قومی اسمبلی کو قید کرنے کے الزام کے بعد حزب اختلاف نے واضح کیا ہے کہ سندھ ہاؤس میں صرف اپوزیشن کے اراکین مقیم ہیں جنہیں اغوا یا گرفتار کرنے کے لیے وفاقی حکومت سندھ ہاؤس پر بھی پارلیمینٹ لاجز حملے جیسا ایکشن کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
اس سے پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے یہ دعوی کیا تھا کہ کہ پندرہ یا سولہ حکومتی اراکین قومی اسمبلی اس وقت اپوزیشن کے پاس ہیں جو تحریک عدم اعتماد والے دن قومی اسمبلی پہنچیں گے۔ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کے لیے سندھ ہاؤس استعمال کرنے کا الزام لگا دیا اور کہا کہ وہاں نوٹوں کی بوریاں بھر بھر کر پہنچائی جا رہی ہین۔
تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے وزیراعظم عمران خان کے اس الزام کے بعد پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی دھمکیوں اور پارلیمنٹ لاجز پر 10 مارچ کو پولیس کے چھاپے کے تناظر میں اپوزیشن کے درجنوں اراکین قومی اسمبلی اس وقت سندھ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں چونکہ سندھ ہاؤس حکومت سندھ کے نگرانی میں چلتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی انفارمیشن سیکریٹری ایم این اے شازیہ مری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ درجنوں ارکان پارلیمنٹ سندھ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے ہیں، ہر رکن اسمبلی کو وہاں رہنے کا حق ہے، یہ اراکین اپوزیشن اور ہماری اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ ان ایم این اے کو وہاں اس لیے رکھا گیاہے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انہیں اغوا کیا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان کے جانب سے اپوزیشن ممبران پر خودکش حملہ کرنے کی دھمکی کے بعد سے وہ خود کو اور بھی غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ لاجز پر پولیس کے چھاپے کے بعد بھی اراکین اسمبلی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے تھے اور اپنی ضمیر کی آواز کے عین مطابق ووٹ دینے کے لیے وہ سندھ ہاؤس میں مقیم ہیں تاکہ تحریک عدم اعتماد والے دن بحفاظت پارلیمنٹ ہاوس پہنچ جائیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن حکومتی قانون سازوں کی وفاداریاں خریدنے کے لیے ‘پیسے کے بوریوں’ کے ساتھ سندھ ہاؤس میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی ٹوئٹ کیا تھا کہ سندھ پولیس کے 400 اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے اہلکار سندھ ہاؤس میں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو رشوت دینے کے لیے استعمال ہونے والے پیسوں کے ‘تھیلوں’ کی حفاظت کی جاسکے۔
لیکن نہ تو عمران خان اور نہ ہی علی زیدی نے اپنے الزامات کے حق میں کسی قسم کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش کیا ہے۔
تاہم اہنی پریس کانفرنس میں شازیہ مری نے دعویٰ کیا کہ سندھ ہاؤس میں رہنے والے اراکین کا تعلق پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے قانون سازوں سے ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اراکین کا سراغ لگائے جو ‘غائب’ ہو گئے ہیں کیونکہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی مزید حمایت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جوابی الزام میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس کے بجائے کچھ ایم این ایز کو وزیراعظم خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر قید کرلیا ہے، انہوں نے وزیر اعظم کے اس فیک دعوے کی بھی تردید کی کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کو سندھ ہاؤس میں قید رکھا گیا ہے۔
جامعہ حقانیہ، جہاں روزانہ ایک لاکھ روپے کا لنگر پکتا ہے
دوسری جانب اپوزیشن حلقے دعوی کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے روز اسمبلی سے دور رہنے کے حکمنامے کے باوجود درجنوں حکومتی اراکین اسمبلی پارلیمینٹ ہاوس پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کر سکیں۔ اسی لیے سما ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز الٰہی نے حکمراں جماعت کو اپنے 15 سے 16 ایم این ایز کو تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا، جو ‘محفوظ حراست’ میں ہیں اور انہیں ادھر ادھر جانے کی اجازت نہیں، انکا کہنا تھا کہ یہ ایم این اے صرف ووٹنگ کے دن سامنے آئیں گے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو حکومت نے اب تک شور مچا دیا ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حکومتی ممبر قومی اسمبلی اس وقت اپنی جماعت سے رابطے میں نہیں اور چھپا ہوا ہے تو وہ ایسا اپنی مرضی سے کر رہا ہوگا۔
ادھر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے حکومتی عہدیداروں کے بیانات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا کہ وہ ارکان کو عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے ضابطہ اخلاق کی بار بار خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کیونکہ ممبران قومی اسمبلی کو وعٹ دینے کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔
