عمران سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف ہیں یا اسکا ساتھ چاہتے ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عمران خان کے طریقہ سیاست سے سو اختلافات کے باوجود آپ کو تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ اپنے مداحین کو فوج کے خلاف مزاحمت کے نمائندہ کے طور پر نظر آتے ہیں۔ یہ اور بات کہ عمران کو فوج کی سیاست میں مداخلت پر اعتراض نہیں بلکہ، انکا اختلاف صرف اتنا ہے کہ کسی اور کی بجائے انہیں مسند اقتدار پر فائز ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ خان صاحب اقتدار سے بے دخلی کا الزام بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کرتے ہیں اور پھر اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باوجود حکومت کی بجائے صرف اور صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی مذاکرات پر مصر ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ سے تحریک انصاف کے پر تشدد اندازِ سیاست کا شدید ناقد رہا ہوں۔ اس کے باوجود میں یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ ایک طویل وقفے کے بعد کرکٹ سے سیاست میں آنے والے عمران خان نے تحریک انصاف کو ایک ملک گیر سیاسی جماعت بنا دیا ہے۔ ان کے مخالف اگرچہ پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت نہیں بلکہ عمران کے مداحین کا گمراہ گروہ شمار کرتے ہیں۔ نصرت کہتے ہیں کہ مداحین کی عقیدت کا ذکر ہاتھ باندھ کر یہ سوال اٹھانے کو مجبور کر دیتا ہے کہ وطن عزیز کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی تو ایسا ہی معاملہ رہا ہے۔ اپریل 1993 ء میں ریاست کے دائمی اداروں کے ’بابا‘ غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی پہلی حکومت کو آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت ملے اختیارات کی بدولت برطرف کیا تو 1980 ء کی دہائی سے نام نہاد ڈیپ سٹیٹ کے ’چہیتے‘ سمجھے جانے والے نواز شریف ’باغی‘ ہو گئے۔ نسیم حسن شاہ کی سپریم کورٹ نے ان کی حکومت بحال کردی، لیکن اسکے باوجود بھی انھیں ’جنرل وحید کاکڑ فارمولہ‘ کے تحت استعفیٰ دینا پڑا۔ اس کے بعد انتخابات ہوئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم کے منصب پر براجمان ہو گئیں۔ اس حکومت کے مینڈیٹ کو ناکام بنانے کے لیے نواز شریف جلسے جلوس اور ٹرین مارچ وغیرہ کرتے رہے اور بالآخر 1996 ء میں پیپلز پارٹی ہی کے اپنے ہی صدر فاروق لغاری نے غداری کرتے ہوئے بی بی کی دوسری حکومت برطرف کر دی۔ لیکن بعد میں موصوف خود بھی نواز شریف کے ہاتھوں ایوان صدر سے ذلیل کر کے نکالے گئے۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات کی بدولت نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو بے تحاشا اقدامات کی بدولت اپنے مداحین کے دل موہ لیے۔ بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا بس پر بیٹھ کر لاہور آنا اور اس شہر میں قائم مینارِ پاکستان جاکر ایک حوالے سے دو قومی نظریہ کو تسلیم کرنا ایسے اقدامات میں شامل تھا۔ بعد ازاں ایٹمی دھماکے بھی ان کی مقبولیت کا سبب ہوئے۔
لیکن نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ کارگل کی جنگ نے گیم پلٹا دی اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء نے انھیں فارغ کر دیا۔ اس مارشل لاء کیخلاف مزاحمت نے نواز شرئف کی مقبولیت میں مذید اضافہ کیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی اپنے قیام کے بعد سے ہی کرشمہ ساز ذوالفقار علی بھٹو کی انتہائی متحرک اور سحر انگیز ساز شخصیت کی وجہ سے عوامی مقبولیت حاصل کر لی اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ ضیا دور میں بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کی مزاحمتی سیاست کو زندہ رکھا اور بالآخر خود بھی انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید ہو گئیں۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عوامی مقبولیت تو عمران خان نے بھی حاصل کی ہے لیکن ان کا طریقہ سیاست مولا جٹ والا ہے جسے اب وزیراعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور بھی اپناتے ہوئے اگلے لیول پر لے گئے ہیں۔ چند ہفتے قبل تحریک انصاف نے اسلام آباد کے نواحی سنگ جانی میں بھی ایک جلسے کا اہتمام کیا تھا جس سے گھبرا کر اسلام آباد کی پولیس اور انتظامیہ نے اس شہر کو کنٹینروں سے سیل کر دیا تھا۔ تاہم اس جلسے کی راہ میں کھڑی رکاوٹوں کو علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آئے ’لشکر‘ میں موجود کرینوں کے ذریعے مسمار کر دیا گیا۔ لیکن جو کرینیں استعمال ہوئیں وہ تحریک انصاف کے فنڈز سے کرایے پر نہیں لی گئی تھیں۔ وہ میرے اور آپ کے ٹیکسوں سے ترقیاتی کاموں میں استعمال کے لیے خریدی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر علی امین گنڈا پور کو ’مولا جٹ‘ بنا دیکھ کر چسکا اٹھاتے ہوئے ہماری اکثریت یہ سوال ہی نہیں اٹھاتی کہ میں اور آپ ریاست پاکستان کو جو ناقابل برداشت ٹیکس ادا کیے چلے جا رہے ہیں ان کا مصرف کیا ایک صوبائی حکومت کو دوسری حکومت سے ’ٹکر‘ لینے کے قابل بنانا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان، یاد رہے کہ ایک فیڈریشن ہے اس کے ہر شہری کو ہمارا تحریری آئین یہ حق دیتا ہے کہ ہمارے ایک شہر سے دوسرے شہر بلاخوف و خطر سفر کرے۔ رزق کے حصول یا بہتر کاروبار کی خاطر پاکستان کے کسی ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل ہونا بھی ہم شہریوں کا بنیادی حق ہے جس پر عملدرآمد یقینی بنانا ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اسی طرح ہمارا آئین سیاسی جماعتوں کو مختلف شہروں میں جلسے جلوسوں کا حق بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کے انعقاد کے لیے سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے سب کے لیے قابل قبول قواعد و ضوابط تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ اندھی نفرت و عقیدت ہمیں بحیثیت قوم مگر اب دیوانگی کی جانب دھکیلنا شروع ہو گئی ہے۔ علی امین گنڈاپور کے ہمراہ آنے والوں میں سے کچھ افراد کے سوشل میڈیا کے لیے ریکارڈ ہوئے کلمات انتہائی اشتعال انگیز تھے۔ ان کے جواب میں پنجاب کو بھی ’ناقابل تسخیر‘ دکھانے کے دعوے ہوئے ہیں۔ ان دونوں رویوں کی شدید مذمت و مزاحمت درکار ہے۔ ہمارے وفاق کی اکائیوں کے مابین چند بنیادی نکات پر کامل یگانگت ہی پاکستان کی بقاء اور خوش حالی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس کے سوا جو بھی حماقتیں ہوں گی وہ پاکستان کو تضادستان بنانے کا عمل تیز تر کر دیں گی۔
