کیا عمران خان 24 نومبر کو احتجاج کی کال واپس لینے والے ہیں؟

24 نومبر کو اسلام آباد کی جانب حکومت مخالف لانگ مارچ کی کال دینے والے عمران خان نے پارٹی کی قیادت کی جانب سے احتجاج کے پلان کی مخالفت کے بعد حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنا فیصلہ واپس بھی لے سکتے ہیں۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اس مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ہونگے جبکہ سابق وفاقی وزیر علی محمد خان، سلمان اکرم راجہ، حلیم عادل شیخ اور سابق گورنر شاہ فرمان اس پانچ رکنی کمیٹی کے ممبرز ہوں گے۔
تاہم دوسری جانب تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ عمران ہر صورت 24 نومبر کو اسلام اباد میں احتجاج اور دھرنا چاہتے ہیں اور ان ہی کی ہدایت پر انکی بہن علیمہ خان کے بعد ان کی اہلیہ بشری بی بی نے بھی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنا شروع۔کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ 24 نومبر کو دھرنے کا اعلان علیمہ خان نے کیا تھا، اس کے بعد خیبر پختون خواہ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں بشری بی بی نے پردے کے پیچھے سے دس منٹ تک پارٹی کی مرکزی قیادت سے خطاب کیا اور بتایا کہ 24 نومبر کا دھرنا ہر صورت ہوگا لہذا اسے کامیاب بنانے کے لیے تمام اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں سے بسیں بھر کر ورکرز کو اسلام اباد لائیں گے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم سے جب 24؍ نومبر کے احتجاج کے حوالے سے پارٹی قیادت کے اندر پائی جانے والی مختلف آراء کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو خان صاحب کی طرف سے جو تازہ ترین پیغامات موصول ہو رہے ہیں وہ کسی بھی طرح کے ابہام اور کنفیوژن سے پاک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے مذاکراتی کمیٹی تو تشکیل دی ہے لیکن اس کا مقصد ہرگز بھی 24 نومبر کا احتجاج روکنے کے لیے مذاکرات کرنا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بانی کے پیغامات ان کے رشتہ داروں کے ذریعے مل رہے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ابہوں نے نہ تو کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی احتجاجی پروگرام بارے کوئی ابہام ہے۔
جب پوچھا گیا کہ کیا بشریٰ بی بی کی رہائی کے بعد عمران نے فوج کے بارے اپنا سخت موقف نرم کیا ہے تو شیخ وقاص نے کہا کہ عمران خان اب بھی پہلے جیسے ہی ہیں اور جیسے پہلے فوج بارے بات کرتے تھے اب بھی ویسے ہی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ عمران خان کے حوالے سے گارجین اخبار نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جیل میں بھیجے گئے ایک سوال نامے کا جواب دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ ڈیل کے لیے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔
24 نومبر کے اعلان پر کئی سرکردہ رہنماؤں کے تحفظات کے حوالے سے شیخ وقاص نے کہا کہ عمران کے فیصلے اور اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کو کامیاب بنانے میں کوئی کمزوری نہ دکھانے کے ان کے واضح پیغام کے بعد یہ تمام تحفظات غیر متعلقہ ہو جاتے ہیں۔ پارٹی میں وہ لوگ جو عمران کے احتجاجی اعلان سے ناخوش تھے، انہیں جیل میں بانی سے ملاقات کا موقع نہیں مل رہا۔ تاہم پارٹی کے کچھ اہم رہنماؤں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ 24 نومبر کے احتجاج کو روکنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ پارٹی اور عمران کو کچھ ریلیف دلوایا جا سکے۔
اگرچہ پی ٹی آئی والے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کو فوجی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کا ذریعہ قرار دیتے رہے ہیں، لیکن اب عمران خان نے اسد قیصر کی زیر قیادت مذاکرات کے لیے 5 رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ لیکن باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جس طرح کے رابطے اور بات چیت کی خواہش رکھتے ہیں وہ ابھی دور کی بات ہے۔ بعض پہ ٹی آئی رہنماؤں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان بامعنی رابطے کی راہ ہموار کرنے کیلئے تمام ممکنہ روابط استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، شیخ وقاص کا کہنا ہے کہ پارٹی میں کسی کو بھی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔
ایک جانب عمران خان اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ 24؍ نومبر کے احتجاج کو حقیقی طور پر کامیاب بنائیں گے، لیکن دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن بار بار کے احتجاج، گرفتاریوں اور ایف آئی آر کے اندراج سے تھک چکے ہیں۔ کئی لوگ پی ٹی آئی کے 24؍ نومبر کے احتجاج کو اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی سے بات کرنے پر مجبور کرنے کے دباؤ کے حربے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، فوج پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتی۔ فوج کا ادارہ اپنے ترجمان کے ذریعے واضح الفاظ میں اہنا موقف بیان کر چکا ہے کہ یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ آپس میں سیاست پر بات کریں۔ ان کا کہنا تھا لہ ایسے معاملات پر بات کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے،
یاد رہے کہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک پریس کانفرنس میں فوج کی پوزیشن واضح کر دی تھی۔
