کیا 860 ملاقاتیں کرنے والے عمران خان قید تنہائی میں ہیں؟

 

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار نے تحریکِ انصاف کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق عمران خان کی جیل میں اپنے خاندان کے افراد، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور وکلا سے اب تک مجموعی طور پر 870 ملاقاتیں ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ ان کے ایکس اکاؤنٹ سے اب تک 775 پیغامات جاری کیے جا چکے جو اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں کسی بھی صورت قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔

 

وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے پروپگنڈے کا جواب دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران دورِ حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو کئی کئی ماہ تک اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تھی جبکہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی اتحادی حکومت کے دور میں عمران کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ سچ ہے کہ حال ہی میں عمران خان کی اپنے خاندان اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر دوبارہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران کی جانب سے ان ملاقاتوں کو فوج اور ریاست مخالف بیانیہ آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے باعث جیل کے اندر اور باہر امن و امان کی صورتحال پیدا ہو رہی تھی۔

 

2 دسمبر کو تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی ملاقات ان کی بہن عظمیٰ خان سے کروائی گئی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا تھا کہ عمران خان کی صحت الحمدللہ ٹھیک ہے، تاہم وہ شدید غصے میں تھے اور یہ شکایت کر رہے تھے کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھ کر ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عظمیٰ خان کے مطابق ملاقات تقریباً 20 منٹ پر مشتمل تھی اور عمران خان نے بتایا کہ انہیں پورا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے اور صرف مختصر وقت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تہم اس ملاقات کے اگلے روز عظمی خان کی ہدایت پر عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جنرل عاصم منیر کے خلاف ٹویٹ کی گئی اور انہیں ذہنی مریض قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف حرکت میں آئے اور ایک پریس کانفرنس میں عمران خان کا رگڑا نکالتے ہوئے انہیں ایک مستند ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب جیل میں ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں منگل کے روز عمران خان کی فیملی جبکہ جمعرات کے روز ان کے وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا شیڈول طے ہے۔ تاہم شیڈول کے مطابق ملاقاتیں نہ ہونے پر عمران خان کی بہنیں اور پارٹی کارکنان متعدد مرتبہ اڈیالہ روڈ پر احتجاج اور دھرنے دے چکے ہیں۔ عمران گزشتہ دو برس سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس دوران پی ٹی آئی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان کو جیل میں ناکافی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم موجودہ حکومت ان الزامات کی بارہا تردید کر چکی ہے۔

 

ادھر برطانیہ میں مقیم عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے بھی اپنے والد کی جیل میں حالت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دونوں بیٹوں نے دعویٰ کیا کہ عمران کو نامناسب حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ قاسم خان نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو پینے کے لیے گندا پانی اور ناقص معیار کا کھانا دیا جاتا ہے اور انہیں اپنے ذاتی معالج تک رسائی حاصل نہیں۔ سلیمان خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو ایسی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جو سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے، جہاں روشنی اور بجلی کی سہولت بھی محدود ہوتی ہے۔

 

دوسری جانب حکومتی ترجمان نے عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر اور ترجمان مشرف زیدی نے سکائی نیوز سے گفتگو میں تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران تقریباً 860 دن سے جیل میں ہیں اور اصولی طور پر انہیں ہفتے میں ایک ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، مگر اس کے برعکس انہوں نے 112 ہفتوں کے دوران 870 ملاقاتیں کی ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنی جیل میں قید کے دنوں سے بھی زیادہ ملاقاتیں کی ہیں۔ مشرف زیدی نے بتایا کہ عمران خان نے اپنی بہنوں سے مجموعی طور پر 137 ملاقاتیں کیں، جن میں 45 علیمہ خان، 49 عظمیٰ خان اور 43 نورین خان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار کسی بھی صورت قیدِ تنہائی کی نشاندہی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے وکلا سے 451 ملاقاتیں کیں جبکہ 30 سے زائد مرتبہ ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا، جن میں کوئی فوجی ڈاکٹر شامل نہیں تھا اور ان کے ذاتی معالج نے بھی متعدد بار معائنہ کیا۔

 

مشرف زیدی نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کے طرح جھوٹ بول کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق تین ہفتوں کے لیے ملاقاتیں اس لیے معطل کی گئیں کیونکہ ہر ملاقات کے دوران امن و امان کے مسائل پیدا ہو جاتے تھے اور وکلا و اہلِ خانہ کی ملاقاتیں سیاسی سرگرمی میں تبدیل ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے جیل مینوئل کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی۔

عمران خان کی جیل میں ورزش کرتے ہوئے تصاویر جعلی نکلیں

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جیل میں قید کے دوران عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے 775 پیغامات جاری کیے گئے، جو اس بات کی مزید دلیل ہے کہ انہیں مکمل تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔

حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار واضح طور پر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ عمران خان کو جیل میں قیدِ تنہائی یا غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔

Back to top button