مرتی ہوئی پاکستانی سیاست کا ذمہ دار عمران ہے یا فوج؟

 

 

 

معروف اینکرپرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاست کے خاتمے کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ وہ سیاست دان ہوں، عوام ہوں، فوج یا میڈیا سب نے سیاست کے تاج محل پر یا تو مسلسل گولہ باری کی ہے یا اندر ہی اندر اس محل کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے سازشیں کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان سے سیاست کا بوریا بستر گول ہوتا نظر آ رہا ہے اور سیاست اپنے آخری دموں پر ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ بے نظیر بھٹو کی ’’مفاہمت‘‘ نامی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کی بقا، ریاست کے استحکام اور سماجی ترقی کے لیے ادارہ جاتی کشمکش کے خاتمے اور مفاہمت کو واحد راستہ قرار دیا تھا۔ اسی مصالحتی سوچ کی بنیاد پر انہوں نے جنرل مشرف اور فوج سے دہشتگردی کے خلاف اتفاقِ رائے پر مبنی معاہدہ بھی کیا تھا، مگر افسوس کہ نہ تو سیاست دانوں نے اور نہ ہی فوجی حلقوں نے اس مفاہمتی فارمولا کو دل سے قبول کیا۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ایک ’’تضادستان‘‘ بن چکا ہے جہاں سیاست خود اپنے ہی ہاتھوں دم توڑ رہی ہے۔ جس طرح زبیر جھارا اور انوکی کے مقابلے میں انوکی غائب ہو جائے تو مقابلہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح جذبہ، مقابلہ، ہیرو اور ولن کے بغیر سیاست بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست کے زوال کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ سیاست دانوں نے لبرل جمہوریت کے اصولوں سے انحراف کیا، جبکہ عوام نے غیر جمہوری مزاج کو پنپنے دیا، فوج نے سیاست میں طاقت کی مداخلت کو اپنا حق سمجھا اور میڈیا نے بھی اپنے منفی کردار سے سیاسی نظام کو کمزور کیا۔ ہر سیاستدان نے اپنے لیے اصول الگ بنائے اور مخالف کے لیے الگ، اس لیے ایسی سیاست اور ایسی جمہوریت کا زوال مقدر تھا۔

 

سہیل وڑائچ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر جمہوریت کے حامی ہیں اور اکثر یہ کہہ کر سیاست کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے ہیں کہ طاقتور قوتیں سیاستدانوں کو وقت ہی نہیں دیتیں کہ وہ اپنی جماعتوں کو منظم کر سکیں، یا گورننس بہتر بنا سکیں؛ لیکن وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ نہ تو عمران خان قومی اسمبلی جاتے تھے، نہ شہباز شریف اور نہ ہی نواز شریف۔ اپنی حکومت کے دوران عمران نے پارٹی قیادت سے مشورے یا اسکی تنظیم سازی کو اہمیت نہ دی اور آج یہی صورتحال شہباز شریف اور مریم نواز کے طرزِ حکمرانی میں دکھائی دیتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کوئی جگہ نظر نہیں آرہی، تحریک انصاف کی تنظیم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور اگرچہ ان کا ووٹ بینک موجود ہے لیکن سٹریٹ پاور کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مذہبی جماعتیں زیادہ تر پریشر گروپ بن کر رہ گئی ہیں اور پنجاب کی مقبول سیاسی قوتیں نہیں رہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر پاکستانی سیاست کے خاتمے پر فاتحہ پڑھ لی جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاست کا خاتمہ نیک شگون ہے یا بدشگونی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وہ آئرش نوبل انعام یافتہ شاعر ڈبلیو بی ییٹس کا حوالہ دیتے ہیں جن سے پوچھا گیا کہ سیاست کی ضرورت کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ سیاست کا تعلق سانس لینے اور زندہ رہنے سے ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ جیسے نوزائیدہ بچے کی پہلی ضرورت صاف آکسیجن ہے، ویسے ہی معاشرے کو زندہ رکھنے کے لیے صاف سیاسی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس صاف ماحول کے لیے موزوں حکومتی پالیسی چاہئے، جو صرف سیاست کے ذریعے ہی بن سکتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ نے فرانسیسی دانشور ژاں پال سارتر کا وہ واقعہ بھی بیان کیا جس میں سارتر نے پاکستانی سرکاری لکھاری کیساتھ گفتگو یہ کہہ کر ختم کر دی کہ جس لکھاری کو اپنے ملک کی سیاست کا علم نہ ہو، اس سے بات ہی کیوں کی جائے؟ انکا کہنا تھا کہ سیاست تو تمام مسائل کے حل کی ماں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر آج پاکستان میں سیاست کا خاتمہ ہوتا دکھائی دیتا ہے، مگر 25 کروڑ آبادی کے ملک کو چلانے کے لیے جو بھی نظام سامنے آئے گا، خواہ وہ غیر سیاسی ذہنوں کی اختراع کیوں نہ ہو، تاریخ اسے بالآخر سیاست ہی قرار دے گی۔ انکے مطابق سیاست زندگی سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے دور کا آغاز ہے اور سیاسی اداروں، پارلیمان، کابینہ، سیاسی جماعتوں اور گورننس کے نظام کو مضبوط کرنے کو سب سے اہم پراجیکٹ سمجھ کر ترجیح دینا ضروری ہو چکا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ 70 برسوں میں پاکستانی سیاست، سیاسی جماعتوں اور وزرائے اعظم پر اتنے حملے ہوئے کہ اب ان کے جسم کم اور ان میں ہوئے چھید زیادہ نظر آتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب ملک کی حکمرانی کے دعوے دار، چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، اس قدر زخمی ہوں تو وہ سیاست کو کیسے سنبھالیں گے اور ملک کو کیسے چلائیں گے؟ فوج چند سال کے لیے توانائی کا انجیکشن لگا کر ملک چلا بھی لے، لیکن آخرکار اسے ملک پھر سیاستدانوں کے حوالے کرنا ہو گا، سہیل وڑائچ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد تحریک انصاف کے سیاسی خاتمے کو قبول کر چکا ہے کیونکہ انہیں فوج کی طرف سے یہ اشارہ مل چکا ہے کہ خان اور ان کی جماعت کے خلاف ایسے واضح ثبوت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی فوج کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ملوث ہیں۔

اقتدار اور اختیار کی جنگ فوج کی قیادت جیتے گی یا عمران؟

سہیل وڑائچ کے بقول نون لیگ نے اس مؤقف کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اسے اپنی سیاسی تقدیر کا حصہ بنا لیا ہے۔ اب فوج اور نون لیگ دونوں متفق ہیں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سیاست کے سالن سے مرچ نکال دی جائے تو پھر نونی نمک کس حد تک ہانڈی کا ذائقہ بنا سکے گا۔ انکے مطابق ایک ایسی سیاست جس میں اپوزیشن نہ ہو، وہ خود حکمران جماعت کے لیے بھی کھوکھلی اور بیکار ہو جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں مرتی ہوئی سیاست کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری اب مسلم لیگ ن کے کندھوں پر ہے، ورنہ پاکستان میں سیاست واقعی مر جائے گی۔

Back to top button