کیا ایرانی رہبر خامنہ ای کا 36 سالہ اقتدار ختم ہونے جا رہا ہے؟

 

 

 

 

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے اب ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں، کیونکہ مظاہرین اب صرف مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ طاقتور ترین رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکمرانی کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے اندرونی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان مظاہروں کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج دراصل امریکہ کی پشت پناہی سے جاری ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دانستہ کوشش ہے کہ عوامی غصے کو ہوا دے کر ایران میں اقتدار کا خاتمہ کیا جائے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کے لیے معاشی دباؤ اور نفسیاتی جنگ دونوں استعمال کر رہا ہے۔

 

9 جنوری کو سرکاری ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے 86 سالہ آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین کو ’شرپسندوں کا ایک ہجوم‘ اور ’فساد پھیلانے والے عناصر‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ امریکہ کے صدر کو خوش کرنے کے لیے ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب کو واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران چند لاکھ باعزت لوگوں کے خون کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اور جو اس حقیقت کے منکر ہیں، ان کے سامنے یہ نظام ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 

ایرانی قیادت کے مطابق حالیہ مظاہرے کسی خود رو عوامی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم بیرونی سازش ہیں۔ خامنہ ای کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ، بالخصوص صدر ٹرمپ، ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کو استعمال کرتے ہوئے عوامی غصے کو حکومت کے خلاف موڑنا چاہتا ہے تاکہ ایران میں ریجیم چینج کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی سخت معاشی پابندیاں ہی مہنگائی کی بنیادی وجہ ہیں۔

 

دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا میں یہ افواہیں بھی شدت اختیار کر چکی ہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای ممکنہ عوامی بغاوت کے خدشے کے پیش نظر اپنے خاندان سمیت ایران چھوڑ کر روس میں جلاوطنی اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم خامنہ ای کے قریبی حلقوں اور سرکاری ذرائع نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں امریکی ڈس انفارمیشن اور نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔ حکومتی کے مطابق رہبرِ اعلیٰ نہ صرف اس وقت ایران میں موجود ہیں بلکہ مکمل طور پر حالات پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جون 2025 میں امریکی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ تنازع کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کے ایک مبینہ اسرائیلی منصوبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ کوئی اچھا خیال نہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران پر اس کے حالیہ حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں سے اسرائیل کی سلامتی کو لاحق خطرات کو ختم کرنا ہے، تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ ان حملوں کے نتیجے میں تہران میں برسرِ اقتدار نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے اپنے رہنماؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی کی تھی۔

ٹرمپ کا ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان

یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ ہیں اور 1989 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ بطور رہبرِ اعلیٰ انہیں کسی بھی حکومتی فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہے، وہ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں اور ریاستی طاقت کے تمام اہم مراکز پر ان کی گرفت سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کا سب سے طاقتور شخص تصور کیا جاتا ہے۔ خامنہ ای کے خاندان، خصوصاً ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، کا بھی ایرانی سیاست میں غیر معمولی اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔ مجتبیٰ کو ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اگرچہ سرکاری سطح پر اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کا دفتر کئی معاملات میں آئینی اداروں سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، جس نے اقتدار کو ایک محدود حلقے تک مرکوز کر دیا ہے۔

 

ایران اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف شدید مہنگائی، عوامی بے چینی اور احتجاجی مظاہرے ہیں، جبکہ دوسری طرف ریاست کی جانب سے سخت گیر ردِعمل اور بیرونی طاقتوں کے الزامات۔ اب عالمی سطح پر سب کی نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکہ واقعی آیت اللہ خامنہ ای کے اقتدار کے خاتمے اور ایران میں ریجیم چینج کی کوشش میں کامیاب ہو پائے گا، یا ایرانی نظام ایک بار پھر اندرونی اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کو برقرار رکھے گا۔

Back to top button