کیا ایران کی موجودہ صورت حال کی ذمہ دار اسکی قیادت ہے؟

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انقلاب ایران کے بعد فیصلہ سازوں کی جانب سے اپنائی گئی نظریاتی مزاحمت اور عسکری تیاری کی حکمت عملی نے ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انقلاب ایران کے بعد فیصلہ سازوں کی جانب سے سائنسی ترقی، صنعتی بنیادوں کی مضبوطی اور سماجی اصلاحات کو اولین ترجیح دی جاتی تو شاید حالات مختلف ہوتے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کے لیے نظریاتی مزاحمت کے ساتھ ساتھ عملی طور پر عسکری اور سائنسی تیاری بھی ناگزیر ہوتی ہے جیسا کہ اسرائیل نے کیا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر بھرپور حملوں کے نتیجے میں تہران کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایرانی قیادت کے مطابق 86 سالہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے اہلِ خانہ سمیت شہید ہو گئے ہیں۔
حملوں کے بعد ایران میں سوگ کی فضا طاری ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو غیر معمولی اور خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی و عسکری سمت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
ایران کی موجودہ سیاسی ساخت کی بنیاد 1979ء کے انقلاب پر رکھی گئی تھی، جب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں شاہ ایران کا تختہ الٹ دیا گیا۔ انقلاب کے بعد ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا منصب ریاست کا سب سے طاقتور عہدہ قرار پایا، جسے آئینی طور پر وسیع اختیارات حاصل ہیں۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ انقلاب کے فوراً بعد ایران کے پہلے صدر ابوالحسن بنی صدر منتخب ہوئے۔ بنی صدر ملک کو سائنسی و صنعتی ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے تھے، تاہم ان کی پالیسیوں کو قدامت پسند حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق صدر نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ انقلاب کے بعد حکومتی ترجیحات میں صنعتی و تعلیمی ترقی کے بجائے نظریاتی و عسکری پہلو غالب آ گئے تھے۔ بنی صدر کے مطابق، انقلابی قیادت کے بعض عناصر کا مؤقف تھا کہ مغرب کے مقابلے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے نظریاتی برتری اور عسکری مزاحمت کو فوقیت دی جائے۔ ان کے بقول، ایک موقع پر سماجی مسائل کی نشاندہی کے لیے تین ہزار ماہرینِ تعلیم کی خدمات حاصل کی گئیں، مگر یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا کہ حکومت کا مقصد لوگوں کو مرنے کا سلیقہ سکھانا ہے، نہ کہ ڈیم، کارخانے یا اسکول بنانا۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ سیاسی کشمکش کے نتیجے میں بنی صدر کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور بالآخر وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
انقلاب کے بعد ایران کے آئین میں رہبرِ اعلیٰ کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے۔ رہبر کو کسی بھی حکومتی فیصلے کو ویٹو کرنے، اہم ریاستی عہدوں پر تقرریاں کرنے اور مسلح افواج کی کمان سنبھالنے کا اختیار حاصل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت شوریٰ نگہبان کے 12 ارکان میں سے 6 کا تقرر رہبرِ اعلیٰ کرتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 157 کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری بھی انہی کے اختیار میں ہے۔ اسی طرح شق 110 کے تحت ‘مجمع تشخیص مصلحت نظام’ سے مشاورت کے ذریعے ملکی پالیسی کی سمت کا تعین بھی رہبرِ اعلیٰ کے فرائض میں شامل ہے۔
1979ء کے بعد آیت اللہ خمینی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران میں نمازِ جمعہ کا امام مقرر کیا۔ 1981ء میں خامنہ ای صدر منتخب ہوئے اور 1989ء میں خمینی کی وفات کے بعد وہ رہبرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ انقلاب کے فوراً بعد ایران کو عراق کے ساتھ طویل جنگ کا سامنا کرنا پڑا، جسے عالمی سطح پر ایران عراق جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں ایرانی توپخانے کی رینج تقریباً 35 کلومیٹر تھی، جبکہ عراق کے پاس 300 کلومیٹر تک مار کرنے والے سکڈ بی میزائل موجود تھے۔ بعد ازاں ایران نے میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی۔ بیلسٹک، کروز اور ہائپر سونک میزائل تیار کیے گئے، جن کی رینج 2500 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ تہران کے قریب سلسلہ کوہ البرز میں زیرِ زمین سرنگیں تعمیر کی گئیں، جہاں میزائل ذخیرہ کیے جاتے تھے۔ یہ سرنگیں 500 سے 700 میٹر گہرائی تک تھیں، جس کے باعث انہیں فضائی حملوں سے مکمل طور پر تباہ کرنا ممکن نہ تھا۔ لیکن میزائل پروگرام کی وسعت کے باوجود رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کے حکم پر میزائلوں کی رینج میں مزید اضافے کا عمل روک دیا گیا تھا۔ ایران کا جوہری پروگرام طویل عرصے سے عالمی تنازع کا مرکز رہا ہے۔ شدید پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود تہران نے پروگرام جاری رکھا، جبکہ متعدد ایرانی سائنسدان پراسرار حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں آیت اللہ علی خامنہ ای نے فتویٰ جاری کیا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا اور استعمال کرنا اسلام میں حرام ہے۔
کیا خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں رجیم تبدیل ہو پائے گا؟
ایرانی قیادت کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں تیز ہوا۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو تہران میں قتل کر دیا گیا۔ اب رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کی شہادت نے صورت حال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی حلقے ان واقعات کو امریکی و اسرائیلی پالیسیوں کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، جبکہ مغربی ذرائع اسے خطے میں طاقت کے توازن کی نئی ترتیب سے جوڑ رہے ہیں۔
