کیا صحافیوں کا سیاستدانوں سے تحفے وصول کرنا جائز ہے؟

پاکستان کی صحافتی تاریخ جہاں ان گنت پابندیوں اوران پابندیوں کے خلاف ڈٹ جانے والے صحافیوں سے بھری ہے، وہیں ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ کسی صحافی پر تحفہ وصول کرنے اور کسی پر رشوت لینے کا الزام لگ گیا۔ ایک بات تو طے ہے کہ کسی شخص سے مالی فائدہ حاصل کرنا اور اس کے بدلے اس کے متعلق منفی خبر روکنا یا مثبت چلانا صحافتی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی سے ہلکا پھلکا ’تحفہ‘ قبول کرنا بھی ایسا ہی عمل ہے اور یہ کہ تحفے سے متعلق حد کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال پوچھنے کی ضرورت تب پیش آئی جب حال ہی میں مریم نواز اور پرویز رشید کی ایک آڈیو ٹیپ لیک ہوئی جس میں مریم دو صحافیوں نصرت جاوید اور رانا جواد کو باسکٹس بطور تحفہ بھجوانے کی ہدایت کرتی سنائی دیں۔
یہ آڈیو ٹیپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد باسکٹس وصول کرنے والے صحافیوں پر کڑی تنقید شروع کر دی گئی۔ سینئر صحافی نصرت جاوید نے اس تنقید کا جواب کچھ یوں دیا: ’میں 1975سے صحافت میں ہوں اور اس دوران بیس بار نوکری سے نکالا گیا ہوں۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا اور اپنی خبر اور تجزیے پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ لیکن مجھے بڑی شرمندگی ہے کہ اس معاملے پر مجھے ایک ملزم کی طرح وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مریم نواز سے زندگی میں صرف دو مرتبہ ملے ہیں اور ہمیشہ نواز شریف حکومت کے ناقد رہے ہیں کیونکہ میرا دل پیپلز پارٹی کے لیے دھڑکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو پھلوں کے تحائف بھجوانا سیاستدانوں کی ایک پرانی روایت ہے لہذا انہیں افسوس ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ‘ٹوکری کو عزت دو’ کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے۔
نصرت جاوید بے کہا کہ ہمارے معاشرے کی کچھ روایات ہیں جو ہماری تہذیب کا بنیادی حصہ ہیں اور ان کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ آج کے سیاستدانوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے بڑے میرے دادا اور والد کے دوست تھے، جو میرے قریبی دوست ہیں، اور اس وقت سے ہیں جب میں صحافی نہیں تھا۔
وہ ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے قدآور سیاستدان ہر برس تمام دوست احباب، سیاستدانوں اور صحافیوں کو آم بھیجتے تھے۔ ’میں اس زمانے میں نیا تھا مگر مجھے بھی بھیجتے۔ لیکن کیا میری تحریریں یا میری صحافت ان کی حمایت میں تھیں؟ اسی طرح اسفندیار ولی خان کے ساتھ ہمارے تعلقات تیسری نسل تک پہنچے، آفتاب شیر پاؤ ہر سال سردیوں میں میرے گھر گُڑ بھیجتے ہیں۔ میں ان کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی یعنی اے این پی کو اعظم ہوتی نسیم ولی خان پارٹی لکھتا تھا۔ اس کے باوجود ہر سردیوں میں اپنے فارم پر تیار گُڑ بھیجتے ہیں۔
آفتاب شیرپاؤ کے ساتھ زمانہ طالب علمی سے تعلق ہے وہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تھے اورمیں اس دور میں سب سے زیادہ زیرِ عتاب رہنے والے صحافیوں میں سے تھا۔ میں نے کسی سے کوئی خبر کی بنیاد پر پلاٹ لیا ہو یا کچھ اور لیا ہو تو میں اپنی صفائی پیش کروں۔ اور اگر میں سیاست دانوں سے انٹریکٹ نہیں کروں گا تو میں خبر کہاں سے لوں گا۔
نصرت جاوید نے کہا کہ ان کے سب سے اچھے تعلقات بینظیر بھٹو کے خاندان سے تھے مگر وہ میری خبروں کی وجہ سے مجھ سے سب سے زیادہ ناراض رہنے والے سیاستدانوں میں سے تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھنا یہ ہے کہ ’کیا اس آڈیو میں یہ کہا گیا ہے کہ فلاں صحافی نے مسلم لیگ ن کے حق بہت اچھی بات کی تھی اس لیے انھیں ٹوکری بھجوا دی جائے۔ نصرت کے مطابق پھلوں کی ٹوکریاں، گرمیوں میں آموں کی پیٹی، سردیوں میں گڑ بھیجنا یا عید پر کیک بھیجنا ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور یہ کسی صحافی کی خبروں پر اثر انداز نہیں ہوتا، نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔
ڈی جی ISPR کی بریفنگ کے بعد حکومت کی سانسیں بحال
دوسری جانب اس بارے میں سینیئر صحافی اور جیو ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس کہتے ہیں کہ خود ان کے ادارے میں باقاعدہ طور پر اصول وضع ہیں۔ ہم نے جب یہ قواعد و ضوابط بنائے تو ان پر بہت سوچ بچار کی گئی۔تقریباً بیس سال قبل ہم نے طے کیا کہ کوئی بھی تحفہ جس کی مارکیٹ ویلیو ایک ہزار روپے سے زیادہ ہوگی وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ مہنگا تحفہ جیسا کہ موبائل فونز، گھڑیاں یا پھلوں کی درجنوں پیٹیاں وغیرہ، وہ قابل قبول نہیں ہوں گی۔ اظہر عباس نے خود اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے کئی بار ایسے تحائف واپس کیے ہیں جو مہنگے تھے یا وہ سمجھتے ہوں کہ یہ ایک عام ٹوکن یا تحفے کی حد سے باہر ہیں۔ ’پھل، کیک، ڈائری، کتاب وغیرہ تو ہماری روایت ہے، مگر کوئی بھی شے جو قدر و قیمت میں بڑی ہو جیسا کہ قیمتی لباس یا مہنگی گھڑی، میں واپس کر دیتا ہوں۔ مثلا کسی نے ایک گھڑی بھیجی، میں نے وہ واپس بھیج دی۔ بطور صحافی آپ کو پتا ہوتا ہے کہ کیا آپ کو لینا ہے اور کیا نہیں۔
اظہر عباس سمجھتے ہیں کہ صحافیوں سے متعلق ان واقعات کے سدباب کے لیے نیوز چینلز اور اخبارات کے منیجمنٹ اور مدیران کو پہلے خود پر اور پھر اپنے عملے پر سختی کرنا ہوگی۔ یہ روایت اداروں کے حکام بالا سے ختم ہو گی تبھی نچلی سطح سے اس کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ انکا۔کہنا تھا کہ منیجمنٹ اور مدیران کو اس معاملے پر سختی کرنا ہوگی۔ ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ صحافی سرکاری خرچوں پر دیگر ممالک میں کوریج کے لیے گئے۔ تو ایسے صحافی کس طرح آزادانہ صحافت کر سکتے ہیں؟ ہم نے اپنے ادارے میں اس پریکٹس کو بند کیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک کسی بھی نیوز ادارے میں اعلی سطح پر اس معاملے پر سختی نہیں ہو گی، ہم نچلے لیول کے ملازمین سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ ان مالی معاملات میں شفافیت اپنائیں گے کیونکہ وہ خود مینیجمنٹ سے سوال کریں گے کہ بھئی آپ بھی تو یہی کرتے ہیں۔
