کیا اسلام آباد کے 5 ججز کا جتھہ بنا کر سیاست کرنا جائز ہے؟

عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز عدلیہ کی آزادی کے نام پر جتھہ بنا کر اپنے چیف جسٹس کے خلاف جس طرح سیاست کر رہے ہیں وہ کسی جج کے شایان شان نہیں، لیکن اگر وہ سیاست ہی کرنا چاہتے ہیں تو بہتر ہو گا کہ وہ اپنے کالے گاؤن اتار پھینکیں اور کھل کر میدان سیاست میں اتریں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی ہمارے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بالخصوص عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر بات ہورہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے تو بطور سائل سپریم کورٹ کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عدلیہ آج بھی اتنی ہی آزاد ہے جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ مثلاً ثاقب نثار اور عمر عطا بندیال چیف جسٹس ہوں تو ازخود نوٹس پر کوئی قدغن نہیں، ایسی صورت میں چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہے، وہ جب جس کیس کو چاہے سماعت کیلئے مقرر کرے، ہم خیال جج صاحبان کے ساتھ بیٹھ کر بنچ فکسنگ کرے اور ضروری ہو تو کیس کی سماعت کے دوران ہی گستاخ جج کو بنچ سے نکال باہر کرے، اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
اگر مخصوص عمراندر ججز کی مطلق العنانیت ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے تو اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اگر قاضی فائز عیسیٰ، یحییٰ آفریدی یا سرفراز ڈوگر چیف جسٹس ہوں تو انکے اختیارات محدود کرنے کو عدلیہ کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سچ کہنے پر دفاع کا موقع دیئے بغیر برطرف کردیا جاتا ہے اور جسٹس اطہر من اللہ چیف جسٹس بن جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ اگر جسٹس محسن کیانی کی بجائے جسٹس سرفراز ڈوگر چیف جسٹس تعینات ہو جائیں تو عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا تو ٹھیک لیکن کسی جج کیخلاف جعلی ڈگری رکھنے کی شکایت غلط ہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ 2017 سے 2022 تک لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی چھتر چھایا میں تو عمراندار جج حضرات عدلیہ میں مداخلت کو جائز اور ضروری سمجھتے تھے مگر اب انہیں ضمیر پر بوجھ محسوس ہونے لگا ہے۔ بلال غوری مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل(ر)حفیظ الرحمان کی تقرری کالعدم قرار دی کیونکہ تعیناتی کے دوران قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی۔ یقیناً یہ فیصلہ میرٹ پر کیا گیا ہو گا، لیکن عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران جنوری 2019 میں میجر جنرل عامر عظیم باجوہ کو خلاف ضابطہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا جسکے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر ہوئی۔ یہ کیس جسٹس محسن اختر کیانی کے سامنے لگا جو آج سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنیوالے ججوں میں سب سے سینئر ہیں، تاہم انصاف پر مبنی فیصلہ نہ آ پایا اور میجر جنرل عامر عظیم باجوہ نے اپنی مدت ملازمت مکمل کی۔
اسکا مطلب یہ ہوا کہ عدلیہ کی آزادی موم کی ناک ہے اور حالات و واقعات کے علاوہ شخصیات کے مطابق اسکی تشریح و تعبیر بدلتی رہتی ہے۔سوال تو یہ ہے کہ اگر اعلیٰ عدالتوں کے ججز سائل بنکر کسی اور عدالت میں مقدمہ بازی کرتے رہیں گے تو پھر انصاف کے طلبگار کدھر جائینگے؟ کیا جج عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے ہڑتال پر جاسکتے ہیں؟ کیا جج صاحبان کاجتھہ بندی کے ذریعے سیاست کرنا انکے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں؟ کیا پانچ ججوں کا ایکا کرکے کسی تنظیم کی طرح مشترکہ لائحہ عمل اپنانا اور اپنے چیف جسٹس کیخلاف سپریم کورٹ میں جانا انکے منصب کے شایان شان ہے؟
بلال غوری کہتے ہیں کہ چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی ایک کیس کی سماعت کے دوران واضح کرچکے ہیں کہ جج کو سائل بنکر عدالتوں میں مقدمہ بازی نہیں کرنی چاہئے۔جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کیخلاف پٹیشن دائر کی تھی تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے انکی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی اور اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ”جب کوئی شخص آئین کے تحت حلف اٹھاتا ہے تو وہ اپنے طرزِ عمل کے ذریعے آئین اور قانون کے تحت میسر تمام حقوق اور مراعات کو اُس رویّے کے تابع کر دیتا ہے جو ایک حاضر سروس جج سے ضابط ء اخلاق کے مطابق متوقع ہوتا ہے، خواہ وہ حقوق و مراعات اس رویّے کے منافی ہوں یا اُس سے ہم آہنگ نہ ہوں“۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ چلیں اگر جسٹس یحییٰ آفریدی کی رائے قابل قبول نہیں تو تحریک انصاف کے ہم خیال منصف کا فیصلہ پیش خدمت ہے۔ اکتوبر 2020ء میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے 42 صفحات پر مشتمل ایک فیصلےمیں قرار دیا کہ کسی ہائیکورٹ کیخلاف رٹ جاری نہیں کی جاسکتی۔ جسٹس اعجاز نے لکھا ”ہمارے ذہن میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ چیف جسٹس صاحبان یاہائیکورٹ کے جج صاحبان جب موجودہ معاملات کے تناظر میں اپنے انتظامی یا مشاورتی اختیارات استعمال کرتے ہیں تو وہ بطور ذاتی حیثیت عمل نہیں کرتے بلکہ وہ آئین کے آرٹیکل 192 میں دی گئی تعریف کے مطابق ہائیکورٹ کے طور پر اور اسی کے کہنے پر عمل کرتے ہیں“ لہٰذا جج صاحبان آئین کے آرٹیکل 199 (5)کے تحت ”اشخاص“ کے دائرہ کار میں نہیں آتے اور انکے خلاف رٹ جاری نہیں کی جا سکتی۔
چنانچہ بلال غوری سوال کرتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ عمران دار ججز کا اپنی ہی ہائیکورٹ کیخلاف رٹ کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا کیا مقصد ہے؟اگرچہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر جو اعتراضات اُٹھائے ہیں وہ درست ہیں مگر سپریم کورٹ کو یہ درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنی چاہئیں تاکہ کوئی واضح اصول وضع کیا جا سکے اور یہ بھی معلوم ہوسکے کہ کیا ججز کی اسناد چیک کروانے سے عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے؟
