کیا پاکستانی میزائلز کی امریکہ تک مار ممکن ہو چکی ہے؟

امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی میزائل پروگرام پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، انہیں پاکستانی سکیورٹی حلقوں نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے میزائلز کی امریکہ تک مار ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ایسے الزامات کا مقصد سیاسی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے تاکہ اسلام آباد کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی سالانہ خطرات کی رپورٹ 2026 میں پاکستان کو چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جو جدید میزائل ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ممالک ایسے نظام تیار کر رہے ہیں جو جوہری یا روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مستقبل میں ان کی رینج میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے، وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے نظاموں کی طرف بڑھ سکتا ہے، جو امریکی سرزمین تک بھی پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
تاہم پاکستانی دفاعی ماہرین اس دعوے کو تکنیکی اور عملی دونوں حوالوں سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نوعیت کی کوئی صلاحیت نہ تو موجود ہے اور نہ ہی پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یاد رہے کہ امریکی رپورٹ نے پاکستان کی سٹریٹجک پوزیشن کو بھی پیچیدہ قرار دیا ہے، اسکا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، وہیں دوسری جانب ایران کے حوالے سے اس کا رویہ محتاط ہے اور وہ سعودی اور روس کے ساتھ تعاون اور شراکت داری بڑھانا چاہتا ہے۔ امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی یہ کثیرالجہتی خارجہ پالیسی بعض اوقات غیر یقینی کا تاثر دیتی ہے، جسے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اس کے باوجود رپورٹ میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا اعتراف بھی کیا گیا ہے، جنہیں ماضی میں امریکی قیادت اور عسکری حکام سراہتے رہے ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تعاون وسیع تر سٹریٹجک ہم آہنگی کی ضمانت نہیں دیتا، بلکہ صرف محدود شعبوں میں روابط کو ممکن بناتا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے داخلی عوامل کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، جن میں عوامی رجحانات، سیاسی استحکام اور سکیورٹی چیلنجز شامل ہیں۔ امریکی رپورٹ کے مطابق یہ عناصر بحران کے دوران پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور علاقائی صورتحال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی تجزیہ کار اس پورے بیانیے کو ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی ممکنہ پوزیشن کو متاثر کرنے کے لیے اس نوعیت کے خدشات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے قریبی اتحادی، خصوصاً بھارت اور اسرائیل، بھی پاکستان کے دفاعی پروگرام کے حوالے سے ایسے خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے مستقل اور واضح رہا ہے کہ اس کا جوہری اور میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیا میں توازن برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کسی عالمی طاقت کو نشانہ بنانا۔ حکام کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو صرف ڈیٹرنس کے اصول کے تحت برقرار رکھتا ہے۔
امریکہ نے پاکستانی میزائلوں کو اپنے لیے خطرہ قرار دے دیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ بھی اس بحث کو سمجھنے میں اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ تعاون اور اختلاف کے مختلف مراحل سے گزرے ہیں، جہاں ایک طرف سکیورٹی اور معاشی شراکت داری رہی، وہیں دوسری طرف سٹریٹجک عدم اعتماد بھی برقرار رہا۔ حالیہ برسوں میں یہ تعلق زیادہ تر عملی نوعیت کا ہو چکا ہے، جس میں دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کے تحت محدود تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں افغانستان کی صورتحال کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جہاں پاکستان کو درپیش سکیورٹی خدشات اور سرحد پار سرگرم شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے امریکہ اور چین دونوں کی تشویش میں کچھ حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔
پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس نوعیت کے خدشات کا اظہار محض سکیورٹی تجزیہ نہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران پاکستان پر دباؤ بڑھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب بھی خطے میں اپنی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کی جانب سے موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت وہ ایک جانب امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھے اور دوسری جانب اپنے سٹریٹجک مفادات اور خودمختاری کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔
