کیا صدر زرداری کی ناراضی کے بعد سرفراز بگٹی کا بچنا ممکن ہے؟

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ممکنہ تبدیلی کی افواہوں نے صوبے کے سیاسی منظر نامے پر ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس دوران یہ اہم اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی سرفراز بگٹی سے ناراض ہیں۔ صدر سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں وزیر اعلی بننے کے باوجود سرفراز بگٹی نے پارٹی مفادات کے تحفظ کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ن اس مؤقف پر قائم ہے کہ 2024 میں حکومت سازی کے وقت ایک فارمولہ طے پایا تھا، جس کے مطابق ڈھائی ڈھائی سال کے لیے وزارتِ اعلیٰ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو ملنی تھی۔ نون لیگ کا مطالبہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی وزارت اعلی کے ڈھائی برس مکمل ہونے کے بعد یہ منصب انہیں سونپا جانا چاہیے۔ تاہم سرفراز بگٹی اس فارمولے کی موجودگی سے یکسر انکاری ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ تو کبھی ایسا کوئی معاہدہ ہوا تھا اور نہ ہی انکے مستعفی ہونے کا کوئی امکان ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے ہفتے سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ایسا ہی دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکن 2024 کے بعد حکومت سازی کے وقت یہ طے پایا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو ڈھائی ڈھائی سالہ مدت کے لیے باری باری وزیر اعظم بنیں گے۔ تاہم نون لیگی حلقوں نے ایسے کسی فارمولے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ لیگی حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر ڈھائی ڈھائی برس کے لیے دونوں اتحادی جماعتوں کہ امیدوار باری باری وزیراعظم بنیں گے تو پھر یہ فارمولا تو صدر کے عہدے کے لیے بھی اپنانا ہوگا، یعنی صدر زرداری کے ڈھائی برس ایوان صدر میں رہنے کے بعد یہ عہدہ نواز لیگ کو دیا جانا چاہیئے۔
ادھر بلوچستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق صورتِحال اس وقت واضح نہیں، مگر ایک بات طے ہے کہ بلوچستان میں وزارتِ اعلیٰ کی کرسی ایک بار پھر تنازعے میں الجھ چکی ہے لہذا آنے والے چند ہفتے صوبے کی سیاست میں غیر معمولی ہلچل مچائے رکھیں گے۔ اسی تنازعے کے دوران بلوچستان کے سیاسی ایوانوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی واقعی آصف علی زرداری کی ناراضی کا شکار ہیں؟ اس سوال نے بلوچستان میں جاری سیاسی کھینچا تانی کو مزید تیز کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر دوستین ڈومکی کے بیان نے اس بحث کی شدت میں اضافہ کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ خراب طرزِ حکمرانی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان طے شدہ فارمولے کے مطابق پیپلز پارٹی کا دورِ اقتدار ختم ہونے پر وزارتِ اعلیٰ کے لیے نون لیگ سے نام پر غور جاری ہے۔ وزیراعلی بگٹی کے لیے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما لیاقت لہڑی اور رکن اسمبلی علی حسن زہری بھی کئی مرتبہ انکی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے اظہار ناراضی کر چکے ہیں۔ انہیں گلا ہے کہ وزیراعلی پارٹی مفادات کی بجائے اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
پیپلز پارٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک اہم پارٹی رہنما نے انکشاف کیا کہ صدر آصف علی زرداری واقعی وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی سے خوش نہیں۔ انکے مطابق چند روز قبل وزیراعلیٰ نے صدر سے ملاقات کی کوشش کی مگر انہیں وقت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ صدر زرداری نے وزیراعلی بگٹی سے ملاقات سے پرہیز کیا ہو۔ اس سے قبل بھی سرفراز بگٹی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران صدر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کر چکے تھے لیکن انہیں اجازت نہ ملی۔
پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کی جانب سے اپنے ہی وزیراعلی سے ملاقات سے مسلسل انکار کوئی اتفاق نہیں۔ انکے مطابق بلوچستان میں بگڑتی ہوئی حکومتی کارکردگی، اندرونی اختلافات اور پارٹی معاملات سے وزیراعلیٰ کی دوری اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ صدر زرداری سمجھتے ہیں کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں وزارتِ اعلیٰ پیپلز پارٹی کے کسی پرانے جیالے کے پاس ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے شخص کے پاس جو چند برس قبل پارٹی میں شامل ہوا ہو اور جو وزارت اعلی کو پیپلز پارٹی کی مہربانی نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیاور جو وزارت اعلی کو پیپلز پارٹی کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی سمجھتا ہو۔
ضمنی الیکشن: نون لیگ کی کامیابی کی وجہ مریم نواز یا تحریک انصاف؟
اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومتی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بلوچستان اسمبلی کے کئی ایم پی ایز بھی وزیر اعلیٰ کی سیاسی حکمت عملی، بیوروکریسی پر گرفت اور مشاورت کے فقدان سے ناخوش ہیں۔ ذرائع کے مطابق کئی ارکانِ اسمبلی کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ناراض لوگوں کی فہرست آئندہ دنوں میں مزید لمبی ہو سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی میں اندرونی اختلافات کوئی نئی بات نہیں، مگر بلوچستان کی صورتحال قومی، قبائلی اور سیکیورٹی پس منظر کی وجہ سے زیادہ حساس ہے۔ میر سرفراز بگٹی اگرچہ مضبوط سیکیورٹی بیانیہ رکھتے ہیں اور اپنی سخت انتظامی طرز کی وجہ سے نمایاں ہیں، لیکن ان کے پیپلزپارٹی نیں زرداری گروپ سے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں بلوچستان کے وزیراعلی کی تبدیلی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
