کیا نواز شریف کے بغیر نون لیگ کی علیحدہ شناخت ممکن ہے؟

ویسے تو اصولاً سیاسی جماعتیں شخصیات سے بڑی ہونی چاہئیں، مگر پاکستانی سیاست کی روایت اس کے برعکس ہے، یہاں جماعتیں اکثر ایک شخصیت کے گرد گھومتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو الگ خانوں میں رکھ کر دیکھنا ممکن نہیں رہتا۔ چنانچہ نون لیگ وہی ہے جو نواز شریف ہیں، اور نواز شریف وہی ہیں جو کہ نون لیگ ہے۔
معروف کالم نگار اور تجزیہ کار عطاالحق قاسمی نے اپنے تجزیے میں اسی سوال کو موضوع بنایا ہے کہ آیا نون لیگ اور نواز شریف واقعی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔ قاسمی کہتے ہیں کہ عوام کی سیاسی یادداشت عموماً ’’ری سیٹ‘‘ ہوتی رہتی ہے۔ کبھی ایک لیڈر کو اٹھا کر آسمان پر بٹھایا دیا جاتا ہے، اور پھر اچانک اسے زمین بوس کر دیا جاتا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد جب فیصلہ سازوں کا تجربہ ناکام ہو جاتا ہے تو وہی لیڈر دوبارہ امیدوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ انکے مطابق اسی اتار چڑھاؤ میں یہ بحث بار بار جنم لیتی ہے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں ادارہ جاتی بنیادوں پر کھڑی ہیں یا صرف شخصیات کے سہارے چلتی ہیں۔
قاسمی صاحب کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں سیاسی جماعتیں مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ چلتی ہیں، مگر پاکستان میں سیاسی جماعتیں اکثر اپنے قائد کے مزاج اور فیصلوں کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ مسلم لیگ ن بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ قاسمی کے بقول ’’نون لیگ‘‘ کا نام سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے نواز شریف کا چہرہ آتا ہے، ان کا طرزِ گفتگو، سیاسی بیانیہ اور اندازِ قیادت سامنے آجاتا ہے۔ انہوں نے ایک محفل کے بارے میں بتایا جہاں کسی نے کہا کہ ’نون‘ نواز شریف کا استعارہ ہے، لہٰذا پارٹی اور قائد کو کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔
عطا الحق قاسمی کے مطابق یہ بات محض مزاح نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ کی شناخت نواز شریف کے بغیر مکمل نہیں، کیونکہ جماعت کا ہر بڑا فیصلہ، ہر سیاسی موڑ اور ہر اہم مرحلہ براہِ راست انہی کی شخصیت سے جڑا رہا ہے۔
سہیل وڑائچ کا فوج کو ڈنڈے کی بجائے سیاسی علاج کا مشورہ
قاسمی یاد دلاتے ہیں کہ 1999 کی فوجی بغاوت، معزولی، اور جلاوطنی، 2017 کی نااہلی اور 2024 میں کامیابی نہ لینے کے باوجود ہر دور میں نون لیگ کا بیانیہ نواز شریف ہی کے گرد تشکیل پاتا اور تبدیل ہوتا رہا۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا وسیع سیاسی دھارا ہے جس میں لاکھوں کارکن، ہزاروں تنظیمی ورکرز اور درجنوں رہنما شامل ہیں۔ اگر نواز شریف سیاست چھوڑ بھی دیں تو بھی پارٹی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی، اگرچہ اس کی طاقت اور یکجہتی ضرور متاثر ہوسکتی ہے۔
عطا الحق قاسمی کا کہنا ہے کہ پارٹی کی نظریاتی اور جذباتی مرکزیت آج بھی شہباز شریف کی بجائے نواز شریف کے پاس ہے۔ عوام جلسوں میں ان ہی کے نام کے نعرے لگاتے ہیں اور لیگی کارکن آج بھی ان کے بیانیے سے متحرک ہوتے ہیں۔ قاسمی کے مطابق جس طرح نون لیگ نواز شریف کے بغیر ادھوری ہے، ویسے ہی نواز شریف بھی اپنے سیاسی وجود کے لیے پارٹی کے پلیٹ فارم کے محتاج ہیں۔ اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے قاسمی کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کبھی کتابی اصولوں کے مطابق نہیں چلتی۔ یہاں لیڈر پارٹی اور پارٹی لیڈر کی پہچان بن جاتی ہے۔ اسی لیے عوام کی نظر میں مسلم لیگ ن اور نواز شریف دو الگ ہستیاں نہیں بلکہ ایک ہی وجود ہیں جسے دلیلوں سے زیادہ جذبات اور سیاسی تاریخ نے جوڑ رکھا ہے۔ مختصر یہ کہ نون لیگ اور نواز شریف کو الگ الگ دیکھنا فطری نہیں ہے کیونکہ زمینی حقیقت یہی ہے کہ نون لیگ وہی ہے جو نواز شریف ہیں، اور نواز شریف وہی ہیں جو کہ نون لیگ ہے۔
